انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 259

انوار العلوم جلدے کے ماتحت کوئی کام کرنے میں۔ ۲۵۹ تحریک شد هی ملکانا دوسرے یہ کہ جنہوں نے ابھی تک اپنے آپ کو پیش نہیں کیا اور غفلت سے رہ گئے ہیں وہ دیکھیں کہ ان میں اور ان میں جو وہاں کام کر کے واپس آئے ہیں کیا فرق ہے ۔ کیا وہ کنگال ہو گئے ہیں اور یہ مالدار بن گئے ہیں، کیا ان کی جائیدادیں ضائع ہو گئی ہیں اور انہوں نے اپنی جائیدادیں بڑھائی ہیں ، کیا وہ کمزور اور نحیف ہو گئے ہیں اور یہ طاقتور اور زور آور بن گئے ہیں۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔ دنیاوی لحاظ سے وہ بھی ویسے ہی ہیں جیسے یہ مگر دینی لحاظ سے خدا کے خاص فضل کے وارث ۔ ہو گئے ہیں اور دوسروں کو نہ دنیا کا فائدہ ہوا نہ آخرت کا اور ان کی مثال وہی ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے اب میں ان کو مخاطب کرتا ہوں جو واپس آئے ہیں اور ان کو بتاتا ہوں کہ بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کے کرنے سے پچھلی کو تاہیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ ان کاموں میں سے ایک جہاد بھی ہے جو شخص خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتا ہے خدا تعالیٰ اس کے پچھلے قصور اور کوتاہیاں معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ جب خدا کے لئے اپنا وطن اپنے عزیز اور اپنا آرام چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کی پہلی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔ اگرچہ ہمارا جہاد وہ جہاد نہیں جیسا کہ پہلوں نے کیا اسی وجہ سے مجھے رقت آگئی تھی۔ ہماری مثال تو اس بچہ کی سی ہے جو مٹی کا گھر بنا کر کہتا ہے یہ محل ہے، رسی کمر میں باندھ کر کہتا ہے کہ میں فوجی افسر ہوں ، چھوٹی سی سوئی پکڑ کر کہتا ہے کہ یہ تلوار ہے ، میلے کچیلے کپڑوں میں سٹول پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں بادشاہ ہو گیا۔ ہماری مثال بھی ایسی ہے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ بعض ہندو جو گوشت نہیں کھاتے وہ بوٹیوں کی شکل کی پڑیاں بنا کر کھاتے اور انہیں بوٹیاں سمجھتے۔ مجھے اس بات پر رونا آتا ہے کہ ہمیں وہ جہاد میسر نہیں جو پہلوں نے کیا مگر اپنے دلوں کو خوش کرنے کے لئے چھوٹی باتوں کا نام جہاد رکھ لیا ہے ۔ لیکن اگر ہمارے دلوں میں اس جہاد کا شوق ہے جو پہلوں نے کیا، اگر ہمارے دلوں میں اس بات کی تڑپ ہے کہ ہم دین کے لئے قربانی کریں اور کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائیں تو وہ خدا جو ان سامانوں کو مہیا کرنے والا ہے جن کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم وہ جہاد نہیں کر سکتے اس نے چونکہ ہمارے لئے وہ سامان مہیا نہیں کئے اس لئے ہمیں اس ثواب سے محروم نہ رکھے گا جو جہاد کا سامان ہونے کی وجہ سے ہو سکتا تھا۔ تو جہاد کے لفظ نے اپنی کوتاہ عملی اور اپنے دائرہ عمل کی تنگی کو میرے سامنے لاکر کھڑا کر دیا