انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 237

انوار العلوم جلدے ۲۳۷ تحریک شد هی ملکانا کچھ نہیں۔ پس چاہئے کہ محبت کی دھار سے ان کی نفرت کی کھال کو چیرا جائے اور پیار کی ری سے ان کو اپنی طرف کھینچا جائے۔ ۲۲- وہ لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں پس کبھی ان سے علمی بحثیں نہ کرو بالکل موٹی موٹی باتیں ان سے کرو۔ موٹی موٹی باتیں یہ ہیں۔ آریہ مذہب کے بانی نے کرشن جی کی (جن کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ۔ پ کو اولاد کہتے ہیں اور ان سے شدید تعلق رکھتے ہیں) جو بڑے بزرگ تھے ، ہتک کی ہے۔ نیوگ کا مسئلہ خوب یاد رکھو اور ان کو سمجھاؤ کہ تم راجپوت ہو کر ایسی تعلیم کے پیچھے جاسکتے ہو ۔ مرکز میں ستیارتھ پرکاش رہے گی اگر حوالہ مانگیں تو دکھا سکتے ہو ۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے آباء و اجداد کو زبردستی مسلمان کر لیا گیا تھا۔ ان سے کہو کہ راجپوت تو کسی سے ڈرتا نہیں یہ بالکل جھوٹ ہے اس بات کو ماننے کے تو یہ معنے ہوں گے کہ تمہارے باپ دادا راجپوت ہی نہ تھے ۔ کیا اس قدر قوم راجپوتوں کی اس طرح دھرم کو خوف یا لالچ سے چھوڑ سکتی تھی۔ کہو کہ یہ بات برہمنوں نے راجپوتوں کو ذلیل کرنے کے لئے بنائی ہے۔ پہلے ان لوگوں نے تمہاری زمینوں کو سود سے تباہ کیا اب یہ لوگ تمہاری قومی خصوصیت کو بھی مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ بنے تو اپنے ایمان پر قائم رہے اور تم راجپوت بہادر ہو کر بادشاہوں سے ڈر گئے یہ جھوٹ ہے تمہارے باپ داداوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا تھا۔ ان کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی قوم سے آلو ان کو سمجھاؤ کہ لاکھوں راجپوت مسلمان ہو چکے ہیں۔ پس اگر ملنا ہے تو یہ ہندو مسلمان ہو کر تم سے مل جاویں اور یہ ملاپ کیسا ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دور کے تعلق والوں سے جاملو۔ ان کو بتاؤ کہ کرشن جی کی ہم مسلمان تو مہما کرتے ہیں اور ان کو اوتار مانتے ہیں لیکن آریہ ان کی ہتک کرتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔ تمہارے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور الگ کچھ اور کہتے ہیں۔ ان کو یہ بتاؤ کہ ہندو تو تم کو ہندو کر کے بھی چھوت چھات کرتے ہیں اور کریں گے چند لوگ لالچ دلانے کو تمہارے ساتھ کھائی لیتے ہیں ورنہ باقی قوم تم سے برتاؤ نہیں کرے گی چاہو تو چل کر اس کا تجربہ کرلو لیکن مسلمان تم کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔