انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 230

انوار العلوم جلدے ۲۳۰ تحریک شدھی ملکانا ضروری مضامین بقید نام کتاب و مطبع و صفحہ سامعین کو نوٹ کرا دیں گے جو بعد میں ان نوٹوں کی مدد سے بآسانی ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کر سکیں گے۔ یہ بات ایک معلی نہیں بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ اس کام کو جس طرح ہمارے علماء کر سکتے ہیں دوسرے لوگ نہیں کر سکتے۔ پس دوسرے مذاہب کے نقائص ظاہر کرنے اور اسلام کی خوبیوں کے اظہار کے لئے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ احمدی علماء سے ان دونوں امور کے متعلق معلومات حاصل کی جاویں۔ پس میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام اہالیان پنجاب کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لوگ اس دعوتِ اسلام کے حملہ میں شریک ہو کر جہاد اکبر کے ثواب میں حصہ لینا چاہیں وہ بہت جلد مجھے اطلاع دیں میں علماء کے کرایہ اور دیگر اخراجات کے متعلق ان سے کچھ طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ خود اپنے مرضی سے اس کام میں حصہ لینا چاہیں۔ میں صرف ان سے یہ مطالبہ کروں گا کہ وہ ایک باقاعدہ انتظام کے ماتحت اپنی اپنی جگہوں پر اس کام کو شروع کر دیں اور اپنے منتخب کردہ سیکرٹری یا امیر کی معرفت مجھے پندرہ روزہ اپنے کام کی اطلاع دیتے رہیں تاکہ اس کی ترقی کا مجھے علم رہے اور وقتا فوقتا ان کو مفید مشورہ دے سکوں اور ان کے جوش کو قائم رکھ سکوں۔ ضروری ہے کہ ایسی درخواستیں باقاعدہ انجمنوں یا ایسے لوگوں کی طرف سے آویں جس کا نام اس امر کی کافی ضمانت ہو کہ وہ درخواست سنجیدگی اور مستقل ارادہ سے کی گئی ہے اور یہ کہ لوگ اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ میں اس موقع پر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے اہل ہنود میں تبلیغ کا کام پہلے سے بہت زیادہ زور سے شروع کر دیا ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے بہت سی کامیابی کی امید ہے۔ اے عزیزو! یہ دنیا چند روزہ ہے اور آخر اللہ تعالی سے واسطہ پڑنے والا ہے یہاں کے آرام ایک خواب سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ پس خدا تعالی کی خوشنودی کے حصول کے لئے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دو اور پورے طور پر اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔ آپ لوگوں میں سے بہت ہوں گے جو اس تجویز کی اشاعت سے پہلے خیال کرتے ہوں گے کہ ہم کس طرح اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں۔ میں نے اس سوال کو آپ کے لئے حل کر دیا ہے اور اس کے پورا کرنے کے سامان آپ کے لئے بہم پہنچا دیتے ہیں اور اس کام کے لئے میں آپ سے ایک پیسہ طلب نہیں کرتا۔ سوائے اس کے کہ آپ خود اپنی خوشی سے انا ان اخراجات کا کوئی حصہ ادا کی ادا کر دیں۔ پس آپ کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ کی حجت آپ پر پوری ہو چکی ہے۔ اور میں امید کرتا