انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 223

انوار العلوم جلدے ۲۲۳ تحریک شدھی ملکانا یہ سب ماجرا دیکھا آخر کہا کہ یہ کیا ہے۔ ڈیوک نے غصہ سے بادشاہ کو کہا کہ دربان مجھ کو اندر آنے سے رو روکتا ہے ۔ - بادشاہ نے اس سے پوچھا تم جانتے ہو یہ کہ کون ہے جو اب دیا ہاں ۔ پوچھا تو تم نے روکا عرض کیا ہاں کیوں روکا اس لئے کہ حضور کا حکم تھا اور بادشاہ کا حکم سب سے بڑا ہے۔ بادشاہ نے ڈیوک سے پوچھا اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہ کے حکم سے روکتا ہوں اس نے جواب دیا کہ ہاں۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے تم اس کو مارو۔ ڈیوک نے کہا یہ نہیں مار سکتا۔ کیونکہ مجھے فلاں فوجی عہدہ حاصل ہے۔ بادشاہ نے اس کو وہ عہدہ دیدیا ۔ اور کہا مارو۔ اس نے کہا کہ میں نواب ہوں۔ محض ایک عہدیدار مجھے نہیں مار سکتا۔ بادشاہ نے کہا۔ کونٹ ٹالسٹائے اسے مارو۔ غرض اگر ایک د ربان بادشاہ کا حکم ماننے کے باعث تھوڑی دیر مار کھانے سے معمولی دربان سے امیر اور نواب بن سکتا ہے تو کیا اگر ہم خدا کے لئے کوڑے کھائیں اور دشمنوں سے دکھ دیئے جائیں اور پھر مقابلہ نہ کریں تو خدا ہمیں اجر نہیں دے گا ضرور دے گا۔ پس ماریں کھاؤ اور مارنے والوں کے لئے دعائیں کرو سختی کا جواب سختی سے نہ دو کہ یہ ہمارے اغراض کے منافی ہے۔ لوگوں میں روحانیت اور محبت سے اشاعت کرو اللہ پر بھروسہ کرو، دعائیں کرو۔ دعا استخارہ داخلہ شہر میں پہلے بتا چکا ہوں۔ بھائی جی لکھ دیں گے جن کو یاد نہیں ۔ اس دعا کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ اے خدا جو سات آسمانوں اور سات زمینوں کا رب ہے اور ان کا جو ان کے نیچے اور اوپر ہیں۔ ہمیں یہاں کے شروں اور فتنوں سے بچا۔ یہاں نیکوں کی محبت ہمارے دل میں ڈال۔ اور ہماری محبت ان کے دل میں ڈال۔ یہاں کی برکتوں سے ہمیں حصہ دے۔ یہ مبارک اور جامع دعا ہے۔ جس کا بارہا تجربہ ہوا۔ یہ دعا نہایت مفید ہے اس لئے اس دعا کو خاص طور پر پڑھا کرو ۔ جب شہر میں داخل ہو ۔ علاوہ اپنے کام کے ان بھائیوں کے لئے بھی دعا کرو جو دیگر ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں اور ان کے لئے جو کسی مجبوری کے باعث فی الحال نہیں جا سکے ۔ جو کمزور ہیں اللہ تعالی ان کی کمزوریاں دور کرے ۔ قاعدہ ہے کہ جب عزیز جدا ہوں تو تحفہ دیا جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ کیا تحفہ ہونا چاہئے۔ میرے خاندان کے لوگوں نے ۴۳ روپے بطور صدقہ دیتے ہیں جو راستہ میں خیرات بھی کئے جائیں اور وہاں کی بعض خاص دینی ضروریات میں بھی صرف کئے جائیں اس پر موجودہ احباب نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ لیا۔ یہ رقم دو سو روپیہ کے قریب ہو گئی جو امیروند کے سپرد کر دی گئی۔ بعد میں حضور نے دعا فرمائی ۔ (الفضل ۲- اپریل ۱۹۲۳ء)