انوارالعلوم (جلد 7) — Page 198
انوار العلوم جلدے ۱۹۸ تحریک شد هی ملکانا ہیں۔ باقیوں کے متعلق تو ابھی یہ حالت ہے کہ ان تک پہنچنے کے لئے پہاڑوں کو تراش تراش کر دروازے بنانے کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں اور صرف ہمیں ہی ان لوگوں کی فکر ہونی چاہئے جو مرتد ہو رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غیر احمدی وہاں جا کر جو کچھ بھی کوشش کر رہے ہیں اتنا کرنا بھی ان کا حق نہیں کیونکہ اصل میں جن کا خزانہ لٹ رہا ہے وہ ہم ہی ہیں ہمارا وہ خزانہ اور ذخیرہ ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔ پس ہر ایک احمدی کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ خدا تعالی نے ہمیں اس امت کا داروغہ مقرر کیا ہے اور جس طرح داروغہ اور دوسرے لوگوں کے فرائض میں فرق ہوتا ہے اسی طرح ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے فرائض میں فرق ہے۔ خدا تعالٰی کے مامور کو ماننا خود خدمت اسلام کیلئے مامور ہو جاتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد - خدا تعالیٰ تو اسے مقرر نہیں کرتا مگر خدا کے مامور کو ماننے کی وجہ سے وہ مأمور ہو جاتا ہے تو ہم خدمت اسلام کے لئے مامور ہیں نہ اس لئے کہ الہام کے ذریعہ خدا نے ہمیں کہا ہے بلکہ اس لئے کہ ہم نے خدا کے ایک مامور کو ماتا ہے ۔ پس جب ہم خدمت اسلام کے لئے مامور ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ اسلام سے بالکل جدا ہونے والوں کو بچائیں اور اگر کوئی اس کام کا اہل ہے تو وہ ہم ہی ہیں۔ پس اگر کسی کے دل میں خیال ہو کہ ہمارا کیا حرج ہے ہم کیوں ان لوگوں کو بچائیں تو وہ اس خیال کو نکال دے۔ اور سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع اس لئے دیا ہے کہ دوسروں پر ہماری فوقیت ثابت کرنا چاہتا ہے اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اس امر کی ضرورت بتا دینے کے بعد کہ ہمارے لئے یہ موقع نہایت اہم ہے نہ صرف مذہبی لحاظ سے ہی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اس میں ہمارے لئے بڑے فوائد ہیں اس وقت میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ ایسے مواقع ہر روز نہیں ملا کرتے۔ جس کو خدا تعالی توفیق دے وہ اس موقع کو نہ جانے دے۔ شیطان سے مقابلہ کرنا ہماری جماعت کے ذمہ لگایا گیا ہے اور شیطان ہماری بغل میں بیٹھا ہے۔ بیشک عیسائیت کا فتنہ بہت شدید ہے مگر اس کیلئے آدمی چونکہ بہت دور سے آتے ہیں اس لئے وہ اپنے ہجوم اور کثرت سے غلبہ حاصل نہیں کرتے بلکہ اور ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ مگر ہند و جو ہمارے پاس بیٹھے ہیں ہیں بائیس کروڑ ان کی تعداد ہے اس لئے ان کا فتنہ بہت سخت ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ فتنہ ایک دو ماہ کی بات ہوگی اور میں نہیں جانتا کہ کتنے آدمیوں کی اس کے لئے ضرورت ہو گی یہ حالات بتائیں گے ۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ جب تک ایسے کافی آدمیوں کے