انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 177

انوار العلوم جلدے تحریک شدھی ملکانا جتنے نبی تھے آئے موسی ہو یا کہ میسی مکار ہیں یہ سارے ان کی ندا یہی ہے جس وقت یہ شعر پڑھا گیا آریہ لیکچرار نے اشتعال دلانے کے لئے کہہ دیا کہ دیکھو مسلمانو! تمہارے نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں اس پر سخت شور پڑ گیا۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر قاسم علی خان صاحب رامپوری پر جو نظم پڑھ رہے تھے بڑے زور سے لٹھ مارا اور اگر میز پر لگ کر لٹھ ٹوٹ نہ جاتا اور ان کو لگ جاتا تو شاید خون ہی ہو جاتا ۔ باوجود بعض شریف غیر احمدیوں کے سمجھانے کے کہ یہ تو آریوں کا ذکر ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں نہ کہ خود حضرت مرزا صاحب کا قول ہے لوگ شورش سے باز نہ آئے اور مباحثہ ملتوی ہو گیا۔ کچھ عرصہ ہوا کہ ایک معزز ہند و صاحب ہمارے ذریعہ سے مسلمان ہوئے ۔ انہوں نے سنایا کہ ایک مولوی صاحب جموں میں ان کو مل کر بڑے زور سے سمجھاتے رہے کہ احمد یہ اسلام سے تو ان کو ہندو مذہب میں ہی رہنا اچھا تھا اب تو انہوں نے اپنی عاقبت بالکل ہی خراب کرلی ہے۔ یہ تو ہندوستان کے واقعات ہیں۔ ایک بڑے خاندانی اور معزز امریکن تاجر جو مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعہ سے احمدی ہوتے ہیں انہوں نے ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ وہ کچھ امریکن لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے کہ انہوں نے اسلام کے بعض عیوب بیان کئے اس پر انہوں نے احمدی نقطہ خیال سے ان اعتراضات کے جواب دیئے ۔ ایک بنگالی مسلمان جو ایک عرصہ سے امریکہ میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے ہیں انہوں نے اس نو مسلم بھائی کی یہ مدد کی کہ جھٹ ان مسیحیوں کو کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب جھوٹ ہے یہ تو احمدیوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں اصل بات وہی ہے جو تم کہتے ہو ۔ آخر بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ اس نے کہہ دیا کہ یہ تو نا واقف ہے میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں مرزا غلام احمد ایک ٹھگ اور دوکاندار آدمی تھا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آؤ ۔ وہ امریکن نو مسلم لکھتا ہے کہ خواہ تم برا مانو یا اچھا سمجھو مجھے اس کی یہ حرکت کہ اس نے بلاوجہ حضرت مرزا صاحب کو گالیاں دینی شروع کر دیں ایسی بری معلوم ہوئی کہ میں نے اس کی گردن پکڑلی اور اس کو مار کر کارخانہ سے باہر نکال دیا ۔ ڈیٹرائٹ ملک امریکہ میں بعض ترکوں نے احمدیوں کی مخالفت میں مسجد ویران کرلی ایک مسجد بنائی تھی مفتی محمد صادق صاحب