انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 174

انوار العلوم جلدے ۱۷۴ تحریک شد هی ملکانا کشاکشی میں اپنی جانیں لٹا رہے ہیں کہ فلاں مباحثہ میں ہم نے کتنے غیر احمدیوں کو احمدی بنایا " کب درست ہو سکتا ہے اور کس حد تک اس سے صحیح واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔ ہم احمدی ہیں اور ہمارے نزدیک اللہ تعالٰی کے مرسل حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ہی اس زمانہ کی سب بیماریوں کا علاج ہے اور زمانہ ہمارے اس قول کی تصدیق کر رہا ہے ۔ پس ہم بے شک غیر احمدیوں کو احمدی بناتے ہیں۔ اور ان کے احمدی بننے پر خوش ہوتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ہمارا سب زور صرف غیر احمدیوں کو احمدی بنانے پر خرچ ہوتا ہے اور اسلام کے مصائب سے ہم آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں واقعات کے صریح مخالف ہے۔ اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک کام کرنے والی جماعت کے کام پر پر وہ ڈالا جائے۔ ہمیں شکوہ ہے اور بجا شکوہ ہے کہ ہماری مخالفت میں ہمارے بھائی اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ ہماری خدمات اسلام بھی ان کو بری لگتی ہیں اور سوائے شاذو نادر لوگوں کے اور وہ بھی شاذ و نادر موقعوں کے کوئی ان کو خدمات اسلام قرار دینے کے لئے بھی تیار نہیں۔ معزز وکیل نے جب کہ دشمنان اسلام کے لئے ایک عام دعوت دی تھی ضروری تھا کہ اس کا عملی ثبوت دیتا اور دوسرے غافل اور ست فرقوں کے ساتھ احمدیوں کو نہ ملاتا مگر افسوس ہے کہ روزانہ وکیل نے نہ صرف احمد یہ جماعت کو دوسروں سے ملا کر بیان کیا ہے بلکہ ان کا خصوصیت سے ایسے پیرایہ میں ذکر کیا ہے جس سے پڑھنے والے کو دھوکا لگتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خانہ جنگی پر اپنی تمام قوت صرف کر دینے والوں میں سے احمدی جماعت ایک نمایاں جماعت ہے۔ اگر ایسے نازک وقت میں بھی جیسا کہ اس وقت اسلام پر آرہا ہے اور ایسی عام تحریک کے وقت بھی جماعت احمد یہ کے اس نیک ذکر کو چھوڑ کر جس کی وہ مستحق ہے اس کا ذکر برے پیرا یہ میں کیا جائے تو امن کے وقت کسی نیک سلوک کی ہمیں کب امید ہو سکتی ہے۔ میرا ہرگز اس سے یہ منشاء نہیں کہ ہم اس سلوک سے گھبراتے ہیں یا اس کی وجہ سے ہم کام سے پیچھے رہنا چاہتے ہیں بلکہ واقع یوں ہے کہ بہت دفعہ اسلام کی خدمت اور اس کی حفاظت کی خاطر دوسرے مسلمان کہلانے والے لوگوں سے ہمیں سخت سے سخت ایذاء بھی پہنچ جاتی ہے پھر بھی ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے اور اپنا کام کئے جاتے ہیں۔ ہم اسلام کے فدائی ہیں اور اس کی خاطر اپنے مال اپنی جانیں اور اپنی عزت و آبرو تک قربان کرنے سے ہمیں دریغ نہیں بلکہ ہم کو اگر ایسا کوئی موقع مل جائے تو ہم اسے فخر سمجھتے ہیں۔ پس لوگ ہمیں کچھ کہیں۔ خواہ ہمارے حفاظت اسلام کے کام کو حقیر سمجھیں۔ خواہ ہمارے کاموں پر پردہ ڈالیں ہم اپنے کام میں سستی