انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xix

انوار العلوم جلد ۷ الله تعارف کتب (4) دعوة الامير سید نا حضرت خلیفه سیح الثانی نے ۱۹۲۲ء میں ! المسیح الثانی نے ۱۹۲۲ء میں امیر امان اللہ خان والی افغانستان و ممالک محروسہ کو احمدیت کی صداقت سے آگاہ کرنے کی غرض سے ایک مفصل خط رقم فرمایا۔ یہ مکتوب گرامی ضخیم کتاب " دعوۃ الامیر" کی شکل میں ۱۹۲۴ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ حضور نے اس بینظیر کتاب میں نہایت جامعیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد بیان فرماتے ہوئے معاندین سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تما کے تمام چیدہ چیدہ اعتراضات کے مسکت اور تسلی بخش جوابات تحریر فرماتے ہیں۔ اور بانی جماعت احمدیہ کے دعوئی مأموریت اور صداقت کے بارہ میں بڑے دلنشین پیرائے میں دلائل و براہین بیان فرمائے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری ہونے والی بارہ (۱۲) پیشگوئیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں شہادت سرور انبیاء کے زیر عنوان مسیح موعود و مہدی مسعود کے زمانے کی ان علامات کا ذکر بڑی تفصیل سے فرمایا گیا ہے جو آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی عالم الغیب والشہادۃ سے علم پا کر بیان فرمائی تھیں۔ جن میں مسلمانوں کی موجودہ دینی، اخلاقی اور سیاسی تنزل و کمزوری اور مخالفین اسلام کی ظاہری عظمت و برتری کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ اس حصہ کو پڑھ کر ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا من جانب اللہ ہونا آفتاب عالم تاب کی مانند روشن و درخشاں نظر آتا ہے اور دوسری طرف دل اس یقین سے معمور ہو جاتا ہے کہ حضرت سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ خوشخبری دی ہے کہ اسلام کا دوبارہ احیاء و عروج اور اس کی بینظیر ترقیات مسیح کی موعود و مہدی مسعود کے ذریعہ ہونگی۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بھی ضرور بالضرور پوری ہوگی۔ یہ کتاب دلائل صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کے بارہ میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے ایک نہایت جامع اور موثر کتاب ہے اور اس میں بیان فرمودہ حقائق و معارف کے بارہ میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔ احمدیت ۔۔۔۔۔۔ اور دعوۃ الامیر کے بعض حصے ایسے ہیں جن کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا