انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xvii

انوار العلوم جلد ہے تعارف کتب ہے کہ کوئی ایرانی تاجر ہندوستان گیا تھا اسے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی کتب پڑھنے کا موقع ملا۔ اور وہ احمدی ہو گیا جس نے واپس آکر یزد کے علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ روسی علاقہ کے تاجروں کو بھی انہوں نے پیغام حق پہنچایا اور کئی تاجر احمدی ہو گئے۔ اس طرح اس علاقہ میں احمدیت کا پیغام پہنچا۔ حضور کو اس اطلاع سے انتہائی خوشی ہوئی اواخر ۱۹۲۱ء میں حضور نے ارادہ کیا کہ اس علاقہ کی خبر لینی چاہئے چنانچہ ایک دوست میاں محمد امین صاحب افغان کو وہاں بھیجوایا ۔ جو بہت سی تکالیف برداشت کر کے وہاں پہنچے۔ انہیں قید و بند کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ لیکن بالآخر ۱۳- مارچ ۱۹۲۳ء کو پہلی بار بخارا میں احمدیہ انجمن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کی تفصیل انہوں نے اپنے خط محررہ ۱۸- جولائی ۱۹۲۳ء کو حضور کی خدمت میں ارسال کی۔ ان کا خط ۹- اگست کو حضور کو موصول ہوا اور اسی روز حضور نے یہ مضمون تحریر فرمایا جو ریویو آف ریلیجنز کے ستمبر ۱۹۲۳ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں حضور نے بالشویک کے علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ اور احمدی مبلغین کی تکالیف کا ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا۔ ”اے بھائیو! یہ قربانی کا وقت ہے۔ کوئی قوم بغیر قربانی کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نئی برادری کو جو بخارا میں قائم ہوئی ہے یونہی نہیں چھوڑ سکتے۔ پس آپ میں سے کوئی رشید روح ہے جو ان ریوڑ سے دور بھیٹروں کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور اس وقت تک ان کی چوہانی کرے کہ اس ملک میں ان کے لئے آزادی کا راستہ اللہ تعالٰی کھول دے " (1) ”پیغام صلح" موجودہ مشکلات کا صحیح حل ۱۴ - نومبر ۱۹۲۳ء کو سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک بہت بڑے مجمع میں بریڈ لاہال لاہور میں تقریر فرمائی۔ اپنے مضمون کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس کا تعلق ہندوستان میں رہنے والی تمام جماعتوں سے یعنی ہندوؤں ، سکھوں ، مسلمانوں وغیرہ سے ہے اور ان جماعتوں