انوارالعلوم (جلد 7) — Page 137
انوار العلوم جلدے ۱۳۷ تقاریر ثلاثه مظلوم سمجھا جائے۔ غرض یہ بڑا علم ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہوتی ہیں جن میں سے بڑی یہ ہیں کہ کس طرح پر اخبار مفید اور دلچسپ ہو سکے اور پبلک کی رائے کا وہ آئینہ ہو جائے اور وہ اپنا اثر ڈال سکے۔ پھر اخبارات کی حد بندی ہوتی ہے مثلاً بعض مذہبی اخبار ہوتے ہیں بعض تجارتی بعض کسی خاص جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی اغراض میں بھی ان کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ علم الجو اللطائف (1) مما علم جوایز جو اسی زبان کے نیچے آتا ہے علم الجو واللطائف۔ ائف ہے اس علم میں اس بات سے بحث کی جاتی ہے کہ کس طرح پر ہجو کمال کو پہنچ جائے اور اس میں زبان اور تحریر کی خوبی بھی اعلیٰ درجے کی رہے۔ اسی طرح ایسا لطیفہ ہو کہ سب بے اختیار نہیں پڑیں۔ اس فن میں جو لوگ کمال حاصل کرتے ہیں بعض وقت وہ ایسی ہجو کرتے ہیں کہ فورا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح لطائف کا علم ہوتا ہے۔ ایک شخص بیان کرتا ہے سننے والے بے اختیار ہو جاتے ہیں وہ ہنسی کو ضبط نہیں کر سکتے ۔ غرض یہ ایک مستقل علم ہے۔ واعظ خاص طور پر اس سے کام لیتے ہیں۔ (۷) ساتواں علم ، قصہ نویسی کا علم ہے۔ اس کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ ایک مختصر قصه نویسی قصہ یا کہانی لکھنی ۔ دو سر المبا ناول لکھنا۔ پھر ان میں جداجدا بحث ہے ۔ ہے۔ قصوں اور ناولوں کے مختلف اقسام ہیں۔ قصہ نویسی کی غرض یہ ہوتی ہے غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے پڑھنے والوں پر ایک خاص قسم کا اثر ڈالا جائے بعض ناول ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں صرف ایسے واقعات کا ذکر ہوتا ہے جو محبت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یا سراغ رسانی کے متعلق ہوتے ہیں۔ پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جن کا انجام غم پر ہوتا ہے اور بعض کا خوشی پر پھر جو باتیں چھوٹے قصوں میں ضروری ہوتی ہیں بڑوں میں وہ نہیں ہوتیں۔ بعض بڑا ناول لکھتے ہیں اور بعض کہانی اور فسانہ لکھتے ہیں۔ (۸) آٹھواں علم بھی علم زبان کے متعلق ہے اور یہ بھی ایک مستقل علم ہے۔ اس علم تقریر کو علم خطابت کہتے ہیں یعنی تقریر کرنے کا علم۔ لیکچر دینے کا فن ۔ اس علم میں اس بات سے بحث ہو گی کہ مقرر یعنی تقریر کرنے والا ایسی تقریر کر سکے کہ سننے والوں کی توجہ لیکچرا رہی کی طرف ہو اور اس کے کلام اور بیان میں ایسا اثر اور قوت ہو کہ اگر سننے والے اس کے خلاف بھی ہوں تو بھی مؤید ہو سکیں۔ اس علم میں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح پر مقرر کو اپنے