انوارالعلوم (جلد 7) — Page 134
انوار العلوم جلدے ۱۳۴ تقاریر ثلاثة نقص اور کمزوری ہے۔ اسی طرح جہالت کے علوم سے واقف ہونا ضروری ہے کہ اس کے معلوم ہونے سے جہالت ثابت کر سکتے ہیں اور کم از کم ان کے نزدیک ہم نہ جائیں گے جب اس کی برائی کا علم ہو گا۔ اب میں نمبر وار دنیاوی علوم بتاتا ہوں۔ (1) دنیاوی علوم میں سب سے پہلا علم جس کو تمام علوم کی بنیا دیا بر تن یا طرف کہنا چاہئے وہ زبان کا علم ہے ؟ ہے جب تک زبان کا زبان کا علم نہ لم نہ ہو انسان اپنے خیالات دوسروں تک پہنچان پہنچا نہیں سکتا۔ اس زبان کے علم کے یہ معنے نہیں کہ انسان اپنے خیالات دوسروں تک کسی ذریعہ سے پہنچا سکتا ہے یہ آگے تین طرز پر تقسیم ہوتا ہے۔ اول۔ وہ زبان جو لفظ کے ذریعہ بتائی جاتی ہے جو منہ کی حرکات سے آواز پیدا ہوتی علم اللسان ہے یا منہ سے کوئی بات انسان بیان کرتا ہے جس کو دوسرے انسان کانوں سے سن کر سمجھتے ہیں جیسا کہ میں اب بول رہا ہوں اور تم اس کو سن رہے ہو تقریری زبان کہلاتی ہے۔ دوم ۔ علم زبان کا ایک حصہ وہ ہوتا ہے جس کو تحریری زبان کہتے ہیں یعنی اپنے مطالب اور خیالات کو لکھ کر پیش کرنا۔ وہ الفاظ جو ہم بولتے ہیں ان کے لئے کچھ اشارات اور نقوش مقرر ہوتے ہیں ان کے ذریعے سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے تم کو معلوم ہے کہ ہر بات لکھ کر پیش کر سکتے ہیں۔ سوم ۔ ایک زبان اشارات سے تعلق رکھتی ہے اس میں نہ بولا جاتا ہے نہ لکھا جاتا ہے بلکہ اشارات ہوتے ہیں جیسے تار آتا ہے۔ تار دینے والا کچھ اشارات کرتا ہے اور لینے والا ان اشارات کو سمجھتا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ ایک دفعہ ٹک ٹک ہو گا تو یہ حرف ہو گا دو دفعہ ہو گا تو یہ حرف ہو گا۔ پھر وہ ان اشارات سے کئی سو میل کے فاصلہ پر سے مطلب سمجھ لیتا ہے۔ یا پرانے زمانہ میں جانوروں یا مختلف قسم کی مشکلوں کے بنانے سے اپنا مطلب ظاہر کر دیا کرتے تھے۔ مثلا کتے سے یہ مطلب ہو گا یا شیر سے یہ مطلب ہو گا۔ مصر میں یہی زبان بولی جاتی تھی اور یہ تصویری زبان کہلاتی تھی لوگ اس سے مطلب سمجھ لیتے تھے۔ ایسی اشاراتی زبان میں وہ اشارات وغیرہ کی زبان بھی داخل ہے جو مثلاً اشاراتی زبان کو جموں کے لئے استعمال کی جاتی ہے وہ اپنے تمام خیالات اشارات سے ہی ظاہر کرتے ہیں۔ یا لڑائیوں میں جھنڈیوں اور شیشوں سے کام لیتے ہیں۔ گونگا اپنی بھوک پیاس کو ظاہر کرتا ہے یا سر پر ہاتھ رکھ کر اور آنکھیں بند کر کے بتاتا ہے کہ سونا ہے۔ یہ اشارات ہم دیکھتے