انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 127

انوار العلوم جلدے ۱۲۷ تقارب ثلاث ہے جس کو روایت کہتے ہیں۔ جیسے ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت سے ایسا سنا یا حضرت ابو بکر کا کہنا کہ میں نے رسول اللہ ا سے سنا۔ یا کسی اور صحابی کا ایسا کہنا روایت ہے اور اس روایت کو حدیث کہتے ہیں۔ (۲) دوسرا حصه اصول حدیث ہے جس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حدیث کس طرح پر لکھی گئی۔ اس کے اصول بیان کئے ہیں۔ اس علم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کتنی قسم کی حدیثیں ہوتی ہیں۔ بعض صحیح ہوتی ہیں بعض کمزور ہوتی ہیں۔ پھر ان اقسام حدیث کے درجے بتائے جاتے ہیں۔ یعنی کہاں تک کوئی حدیث اثر رکھتی ہے۔ اس علم کی ایک شاخ اور نکل آئی ہے وہ اسماء الرجال ہے اس علم میں یہ بحث ہے کہ فلاں راوی صادق ہے یا کیسا ہے، اس کا حافظہ کیسا ہے، وہ ملا بھی ہے یا نہیں غرض راویوں کے حالات پر بہت کھول کھول کر بحث کی جاتی ہے اور ان ساری باتوں کا اثر حدیث پر جا پڑتا ہے۔ چوتھا حصہ حدیث کے متعلق تاریخ حدیث ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حدیث کے لکھنے کا خیال کیونکر پیدا ہوا اور کسی زمانہ میں حدیث کی تحریر شروع ہوئی مؤلفین نے حدیث کا ذکر بھی کیا ہے اور یہ بھی کہ اس میں کیا کیا ترقیاں ہوئیں۔ پانچواں حصہ علم حدیث کے متعلق شرح حدیث ہے۔ جس طرح پر قرآن کریم کی تفسیر کی گئی ہے اسی طرح پر حدیث کی شرح لکھی گئی ہے۔ چھٹا حصہ موضوعات حدیث کا ہے ۔ اگر چہ یہ بحث اسماء الرجال میں بھی آجاتی ہے مگر بعض نے مستقل طور پر اس علم کو لیا ہے اور موضوع احادیث کو جمع کیا ہے۔ چوتھا علم۔ علوم اسلامی میں فقہ کا علم ہے اس کے بھی کئی حصہ ہیں ایک تو خود فقہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وضو اس طرح کرنا چاہئے نماز اس طرح پڑھنی چاہئے۔ اس طرح زکوۃ روزہ نکاح، حج اور دوسرے مسائل لین دین، ورثہ وغیرہ کے متعلق حدیث میں بھی مسائل آتے ہیں مگر متفرق طور پر فقہ میں تمام مسائل کو ایک جگہ جمع کر کے بتا دیا ہے۔ فقہ کے علم کے ماتحت بھی کئی علم ہیں۔ ان میں سے ایک اصول فقہ ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ فقہ کیوں کر بنائی جاتی ہے۔ یعنی کن کن طریقوں پر اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ پھر آگے اس میں اختلاف ہو گا۔ کوئی کہے گا یہ بات قرآن کریم کے مطابق ہو۔ ایسا ہی کوئی کہے گا کہ قیاس اور عقل کو بھی دخل ہو گا۔