انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 115

انوار العلوم جلدے ۱۱۵ تقاریر ثلاث بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تقاریر ثلاثة (فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی) تقریر اول (جلسه لجنہ اماء الله منعقدہ مورخه ۵ فروری ۱۹۲۳ء) میں نے پچھلے جلسہ کے ایک موقع پر یہ بات بیان کی تھی علم دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے کہ علم کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختلف علوم کے متعلق ایسے لوگوں کے لیکچر ہوتے رہیں جو ان کے ماہر ہوں۔ خواہ یہ علوم دینی ہوں یا دنیاوی۔ کیونکہ ہر قسم کا علم انسان کی دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ بعض دفعہ انسان مذہبی طور پر ایک رتبہ حاصل کر لیتا ہے مگر دنیاوی علوم نہ جاننے کے باعث ذلیل ہوتا ہے۔ حکایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی شخص کا جو بزرگ مشہور تھا واقعہ بیان کرتے تھے کہ بادشاہ کے درباریوں میں سے کوئی اس کا معتقد تھا وہ ہمیشہ بادشاہ کو تحریک کرتا تھا کہ اس بزرگ کے پاس چلو مگر بادشاہ ہمیشہ اس کو ٹلا دیتا تھا۔ بار بار کے کہنے پر ایک بار بادشاہ کو خیال آیا کہ چل کر دیکھیں تو سہی بزرگ کہلاتا ہے اس میں کیا کمال اور بزرگی ہے۔ چنانچہ بادشاہ وہاں پہنچا اس کو خیال ہوا کہ بادشاہ پر کچھ اثر ڈالنا چاہئے اور اس کے لئے اس نے مناسب سمجھا کہ کچھ نصیحت کروں اور اس طرح پر علم کا اظہار کروں تاکہ اس کی عقیدت میں ترقی ہو۔ اس خیال پر اس نے اپنی تقریر کا سلسلہ شروع کیا اور کہا کہ بادشاہوں کو لازم ہے کہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کریں اور ان پر ظلم نہ کریں۔ مسلمان بادشاہوں میں سے ایک سکند ربادشاہ تھا جو رسول اللہ ل سے ہزار سال پہلے گزرا تھا۔ بادشاہ نے جب یہ بات سنی تو اس کا چہرہ متغیر ہوا اور اس کو معلوم ہوا کہ یہ شخص محض جاہل ہے اور اٹھ کر چلا آیا۔ اس شخص کو نفس کی خواہش نے ہلاک کیا اور ضروری علم کے نہ جاننے کی وجہ سے ذلیل ہوا۔ اگر چہ یہ کوئی ضروری بات نہیں کہ کوئی بزرگ ہو تو اسے یہ بھی معلوم ہو کہ سکندرکون تھا