انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 108

انوار العلوم - جلد ١٠٨ نجات اس کے لئے ضروری ہے کہ عمل کرے ۔ مگر جب طریقت حاصل ہو جائے تو پھر عمل کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس سوال کا پہلے تو اسلامی جواب دیتا ہوں پھر عقلی جواب دوں گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ جب اسلامی نقطہ نگاہ سے مانا گیا ہے کہ اس دنیا میں ہی نجات مل جاتی ہے تو پھر اعمال کی کیا ضرورت رہتی ہے؟ چنانچہ اباحتیوں نے اس امر کو مد نظر رکھ کر شریعت اور طریقت کی اصطلاحات نکالی ہیں۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم اللہ سے کہا کہ آپ کو تو خداتعالیٰ نے سب کچھ معاف کر دیا پھر آپ تہجد کی نماز میں اس قدر کیوں کھڑے ہوتے ہیں کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا میں خدا تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ عمل خدا تعالیٰ کے ملنے کے لئے ہی نہیں کئے جاتے بلکہ شکریہ کے طور پر بھی کئے جاتے ہیں۔ اور جب رسول کریم ال جیسا انسان بھی جو سب نیکوں کا سردار ہے اعمال سے مستغنی نہیں ہوتا تو اور لوگ کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں ؟ در اصل تین باتوں کے نہ سمجھنے کی وجہ وجہ سے پیدا یہ خیال درا خدا کی حقیقت سے ناواقفیت ہوا ہے۔ اول یہ کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی ذات کو نہیں یہی سمجھتے اور اسے کوئی محدود چیز سمجھ لیتے ہیں اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انسان پر ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ اسے خدا مل جاتا ہے اور اسے کسی اور کام کی ضرورت نہیں رہتی۔ حالانکہ خدا کے ملنے کا یہ مطلب ہے کہ عرفان حاصل ہو اور عرفان کبھی ختم نہیں ہو تا بلکہ برابر بڑھتا چلا جاتا ہے وجہ ہے کہ رسول کریم ال کو بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہو رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا "اے میرے رب میرے علم کو اور بڑھا اور میرے عرفان کو اور ترقی دے ۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معمولی علم بھی ختم نہیں ہوتے پھر خد تعالی کی معرفت کس طرح ختم ہو سکتی ہے ؟ ایک دفعہ ایک شخص آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا اگر دریا کے پار ہوتا ہو اور انسان کشتی میں سوار ہو اور کشتی کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اسی میں بیٹھے رہنا چاہئے یا اتر جانا چاہئیے ؟ میں نے اس کا مطلب سمجھ لیا وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ اعمال بطور کشتی کے ہیں اور کنارہ خدا ہے جب خدا مل گیا تو پھر اعمال کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے اسے کہا اگر دریا کا پاٹ ختم ہونے والا ہو تو انسان کنارے پر پہنچ کر اتر جائے لیکن اگر دریا غیر محدود پاٹ کا ہو تو اگر وہ اترے گا تو ڈوبے گا یہ سن کر وہ پھر نہ بولا ۔ پس چونکہ ہم اس ہستی کی تلاش میں ہیں کہ جس کا عرفان کبھی ختم نہیں ہوتا پھر اس کے