انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 89

انوار العلوم - جلدے ۸۹ نجات سنائی دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو تم سے محول کیا جاتا ہے جو شیطان کرتا ہے۔ پس شیطانی اور خدائی الہام میں یہ فرق ہے۔ اب خدا بیان ہوں اب خدا تعالٰی کی فطی شہادت بیان کرتا ہوں ۔ خداتعالی فرماتا ہے خدا تعالی کی فعلی شهادت اس مومن کو جو خداتعالی پر ایمان لاکر ترقی کرتا چلاجاتا ہے پیچھے نہیں بنتا۔ فرشتے آکر کہتے ہیں نَحْنُ أَوْلِيو كُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَسْتَهَى أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُونَ ۴۸۔ ہم تمہارے دوست ہیں اس و دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور تم کو آخرت میں جو کچھ تمہارے نفوس خواہش کریں گے ملے گا اور تم جو کچھ وہاں مانگو گے ملے گا۔ پس فعلی شهادت خدا تعالی اس طرح دیتا ہے کہ ایسے بندوں کو اس دنیا میں مدد دیتا ہے۔ یہ شهادت کئی طریق سے دی جاتی ہے۔ (1) ایسے شخص کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالی اس کی بات کو مانتا ہے۔ اس جگہ دو سوال پیدا ہوتے ہیں میں ان کا جواب دے دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ اول سوال اس فقرہ سے یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں کی سب دعائیں سنی جاتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں سب دعائیں نہیں قبول کی جاتیں بلکہ بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور بعض نہیں قبول کی جاتیں۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر انہی کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور دوسروں کی نہیں ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ دعائیں اللہ تعالی ہر شخص کی قبول کرتا ہے خواہ وہ کافر سے کافرہی کیوں نہ ہو ۔ ان دونوں سوالوں کے جواب سے ایک تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نہ ان لوگوں کی سب دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور نہ ان کو ہی خصوصیت حاصل ہے کہ ان کی بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں تو پھر ان میں اور دوسروں میں فرق کیا ہے ؟ اور ان کو دوسرے لوگوں پر کیا امتیاز حاصل ہوتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی دعاؤں کی قبولیت اور دوسرے لوگوں کی قبولیت میں بہت سے فرق ہیں اور وہ یہ کہ ایسے انسان کی دعائیں کثرت سے سنی جاتی ہیں اور دوسروں کی کوئی کوئی اور یہی دوست اور غیر دوست میں فرق ہوتا ہے۔ کبھی تو غیر دوست کی بات بھی مان لی جاتی ہے مگر دوست کی دوست اکثر باتیں مانتا ہے۔ (۲) اس کو بعض اوقات دعا کی قبولیت الهام یا قلبی اثر کے ذریعہ بتا دی جاتی ہے مگر دوسرے باوجود قبولیت دعا کے شک کے مقام پر رہتے ہیں اور وہ وثوق کے مقام پر ہوتا ہے۔