انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 76

انوار العلوم جلد 4 24 بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات اور دیگر انبیاء کے تھے۔ اب اگر کوئی ان دلائل کے ہوتے ہوئے آپ کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اس طرح پہلے انبیاء بھی جھوٹے ہو جاتے ہیں لیکن جو ان دلائل کی وجہ سے پہلے انبیاء کو سچا سمجھتا ہے وہ حضرت مرزا صاحب کو بھی سچا سمجھے گا ۔ جب کوئی شخص ان دلائل کو معلوم کر کے اور ان سے واقف ہو کہ آپ کو مانے گا تو پھر اس کے دل میں کوئی شبہ نہیں پڑ سکے گا ۔ رسول کریم کو ابوبکر نے کیونکر مانا دیکھنے حضرت ابو کرن نے سول کریم صلی الہ علیہ ہم کو ایک ہی دلیل سے مانا ہے اور پھر کبھی ان کے دل میں اور آپ کے متعلق ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ نہیں پیدا ہوا اور وہ ایک دلیل یہ تھی کہ انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچپن سے دیکھا تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تسبھی شرارت نہیں کی کبھی گندی اور ناپاک بات آپ کے منہ سے نہیں نکلی بس یہی وہ جانتے نہیں اور سے رہو تھے اس سے زیادہ نہ وہ کسی شریعت کے جاننے والے تھے کہ اس کے بتائے ہوئے معیار رسول کریم کو سچا سمجھ لیا، نہ کسی قانون کے پیرو تھے انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خد انہ تھا کہ خدا کا رسول کیا ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں وہ صرف یہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کبھی نہیں بولا ۔ وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو راستہ میں ہی کسی نے انہیں کہا کہ تمہارا دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں ۔ انہوں نے کہا کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ کہتا ہے ۔ اُس نے کہا ہاں ۔ انہوں نے کہا پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے کیونکہ جب اس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہیں بولا تو خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا ۔ جب اس نے انسانوں سے کبھی ذرا بد دیانتی نہیں کی تواب ان سے اتنی بڑی بد دیانتی کس طرح کرنے لگا کہ ان کی روحوں کو تباہ کر دے ۔ صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابو بکر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا اور اسی کو خدا تعالیٰ نے بھی لیا ہے ۔ چنانچہ فرماتا ہے لوگوں کو کہدو فَقَدْ لَبِثْتُ نِيكُمْ عُمْرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس : ۱۷) میں ایک عرصہ تم میں رہا ۔ اس کو دیکھو۔ اس میں میں نے تم سے کبھی غداری نہیں کی پھر آب میں نے تم سے بھی میں خدا سے کیوں غداری کرنے لگا ۔ یہی وہ دلیل تھی جو حضرت ابو بکرہ نے لی اور کہدیا کہ اگر وہ کہتا ہے کہ خدا کا رسول ہوں تو سچا ہے اور میں مانتا ہوں اس کے بعد نہ کبھی ان کے دل میں کوئی شبه پیدا پیدا ہوا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش آئی۔ ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے 1 انہیں جائدادیں اور وطن چھوڑنا اور اپنے عزیزوں کو قتل کرنا پڑا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ピン