انوارالعلوم (جلد 6) — Page 63
انوار العلوم جلد 4 ۶۳ معیار صداقت ضروری ہے کہ مدعی کا اپنا بیان دکھائیں ۔ مدعی کا استقبال تیسری بات مدعی کے استقبال کے متعلق ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کتے مدعی کا استقبال الا انا والا اللهُ لَا عَدِينَ أَنَا وَرُسُلِي - المجادلۃ : ۲۲) یہ بات اللہ تعالیٰ نے لکھ لی ہے فرض کر دی ہے کہ خط اور اس کے رسول ہی غالب ہو نگے اور خدا اور خدا کے رسول ہی فاتح ہونگے یہ اب تک ہوا اور آئندہ ہو گا ۔ حضرت مسیح موعود کا استقبال کے رت سے قیاس کرتے ہیں۔ آپ کمزور تھے اور آپ اکیلے تھے مگر تمام دنیا آپ کی دشمن تھی۔ عیسائیوں کو آپ سے بغض ، ہندوؤں کو آپ سے عناد اور سکھوں کو کو سے عباد اور نہیں کو جی کہ نے اگر چہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر ان کو بھی آپ سے غصہ تھا اس لئے کہ آپ نے ست بچن میں با با تانک صاحب کی تعریف اور خوبی بیان کرتے ہوئے ان کے مسلمان ہونے کا ذکر کیا تھا اور مسلمان جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت علیستی کے لئے عیسائیوں سے زیادہ جوش اور محبت ہے وہ بھی آپ کی جان کے دشمن ہو گئے تھے ۔ ہو پھر گورنمنٹ بوجہ مہدویت اور مسیحیت کے دعوی کے آپ سے بدظن تھی ۔ خفیہ پولیس کے آدمی با قاعدہ یہاں سے ڈائری بھیجتے رہے اور غالباً اب بھی ہونگے اور ایک پولیس میں تو بیاں رہتا ہے ۔ ہمارے مہمانوں کی فہرست اب تک گورنمنٹ کے ہاں جاتی ہے۔ لیکن ان تمام موانع اور دشمنیوں کے باوجود آپ کے سلسلہ کو ترقی ہوئی ۔ آپ ایک تھے مگر آپ کے ماننے والے لاکھوں ہو گئے۔ کیا حضرت مرزا صاحب کی فتح کا انکار کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ مخالفوں کی موجودگی میں آپ نے اعلان کیا کہ جو نیک اور متقی ہونگے وہ سب میرے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کو اپنے ساتھ ملا لونگا اور آپ نے ایسا کر کے دکھا دیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہمارے بیٹے کنجر خانے میں جائیں عیسائی ہو جائیں مگر احمد ی نہ ہوں لیکن پھر بھی لوگ احمدی ہو رہے ہیں اور بکثرت ہو رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کی فتح نہیں ۔ قادیان کی ترقی کے متعلق پیش گوئی فرمائی کہ بیاس تک ہوگی چند سال میں ایک میل تک قادیان میں گیا ہے اور اس سے ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ عنقریب بیاں تک اس کی آبادی پہنچ جائے گی فرمایا تھا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجَ عَمِيقٍ لوگ قادیان میں دور دور سے آئیں گے اور راستے کہیں جائینگے اور ایسا ہی ہوا ۔ خودان مولویوں کا آنا بھی ایک نشان ہے۔ مولوی آئے اور راستہ کی خرابی کی شکایت تذکره ۲۹ ایڈیشن چهارم