انوارالعلوم (جلد 6) — Page 55
انوار العلوم جلد 4 معیار صداقت ان کے یہ اعتقاد موجود ہیں ان کو ہرگز یہ حق نہیں کہ حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کریں ۔ ورنہ وہ جھوٹ کے الزام کے باوجود انکے اپنے اعتقاد مسلمات کی روسے ہی ہیں اوران پر یہ کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔ غلطی اور جھوٹ میں فرق درایس پی چھوری بات ہے میں در اصل یہ چھوری بات ہے۔ غلطی اور جھوٹ میں بہت فرق ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اصل بات یاد ہوتی ہے لیکن لکھتے یا بولتے وقت حوالہ دینے میں غلطی ہو جاتی ہے۔ فرض کر لوکہ اگر کوئی قرآن کریم کی ایک آیت پڑھے وہ سورۃ نساء کی ہو اور اس کی زبان سے نکل جائے یا لکھا بھی جائے کہ ال عمران میں یہ آیت ہے تو کیا اس کو کوئی عقلمند جھوٹ کہے گا ۔ جھوٹ تو تب ہوتا کہ اس آیت کا قرآن کریم میں وجود ہی نہ ہوتا ۔ اسی طرح حدیث کے حوالے میں اگر حضرت مسیح موعود نے مسلم کی بجائے بخاری یا کسی اور کتاب کا نام لکھ دیا۔ تو اس میں کوئی جھوٹ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی غلطی عموماً ہو جاتی ہے اور بہت دفعہ ایک حدیث کے بہت سے اجزاء ہوتے ہیں جو متفرق مقامات اور متفرق کتب میں ملتے ہیں یا ان کی شرحوں میں کوئی بات آگئی ہوتی ہے ۔ لکھنے میں اصل کتاب کا یا ایک کتاب کا نام کے دیا جاتا ہے بخاری کے متعدد ابواب اس قسم کے ہیں کہ ان کے نیچے جو حدیثیں درج ہیں ان کا عنوان سے کچھ تعلق نہیں۔ شارحین اس کی تاویلیں کرتے ہیں ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ امام بخاری باب کی عبارت اس حدیث کے ایسے ٹکڑوں کی بناء پر لکھ دیتے ہیں جو اس جگہ انھوں نے درج نہیں کئے ہوتے۔ اسی طرح اگر حضرت مرزا صاحب سے کسی صیحیح حدیث کو لکھ کر اصل کتاب کی بجائے کسی دوسری کتاب کا نام لکھا گیا تو ان پر جھوٹ کا الزام بد دیانتی اور بیہودگی ہے۔ چلو ہم کا نام ان پر الزام بدیانتی اس کو سنت بخاری کہ دینگے پھر وہ کیا اعتراض کریں گے ۔ حضرت مسیح موعود پر نبیوں کی بنک کا جھوٹا الزام پر کہتےہیں کہ حضرت مرا صاج نے نبیوں کی ہتک کی اور حضرت میٹی کو گالیاں دیں، لیکن اس سے زیادہ ان کی کیا کم نمی ہوسکتی ہے کہ حضرت اقدس پر حضرت علیسی علیہ السلام کو گالیاں دینے کا الزام لگایا جائے۔ کیا دنیا میں کوئی شخص جس کا مثیل ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے متعلق یہ کہے کہ میں اس جیسا ہوں اس کو گالیاں دے سکتا اور اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے۔ کیا ان بے خبروں اور معترضوں کو علم نہیں کہ جب عیسائیوں کی زبان اور قلم سے ہمارے سید مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں گند و خرافات بکا جانے لگا اور انھوں نے گندی سے گندی اور ناپاک سے ناپاک گالیاں دینا اپنا شیوہ بنالیا اس وقت حضرت مسیح موعود نے ان کو یہ محسوس کرانے