انوارالعلوم (جلد 6) — Page 552
انوار العلوم جلد 4 ۵۵۲ دعوت علماء سے لالہ بڑھے مل صاحب ہیں جو شروع سے آپ کی مخالفت پر آمادہ رہے ہیں ان سے دریافت کی کیجیئے لالہ ملا وائل صاحب ہیں جو اکثر آپ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ان ۔ ان سے پو چھٹے، ساتن دھرمیوں میں سے پنڈت جے کشن صاحب نہیں ان سے دریافت کیجئے سکھ صاحبان میں۔ میں سے بھائی بوڑ سنگھ و بھائی گنیشا سنگھ، بھائی بھگوان سنگھ صاحبان غیر احمدیوں میں سے میاں امام الدین صاحب برادر میان شادی صاحب قوم کشمیری و میان علی بخش صاحب نائی ، نواب راجپوت ، چراغ شاہ قریشی ، نکو ارائیں ، حسینا راجپوت - پاس کے گاؤں والوں سے مثلاً کا لہواں کے بھائی جھنڈا سنگھ صاحب سے اور اور بٹالہ کے شرفاء سے دریافت کیجئے مگر ملفی بیان لیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا اس قسم کے راستبازہ انسان کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جھوٹا تھا ۔ رات کو تو وہ راستی اور صداقت کا مجسمہ بن کر لیٹا اور صبح جھوٹ اور افتراء کا پتلا بن کر اٹھا۔ کیا بیچ کے لئے تکلیف اُٹھانے والوں اور نقصان برداشت کر کے بھی حق نہ چھوڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی بدلا ملا کرتا ہے کہ ان کو دجال اور مفسدین بنا دیا جایا کرتا ہے اور انکے ایمان کو سلب کر دیا جاتا ہے ؟ اور اگر ایسا منہے تو پھر قرآن کریم کی آیت مذکورہ کا کیا مطلب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر راستبازوں کی راستبازی کا کیا ثبوت ہے ؟ اسی طرح آپ لوگ قادیان کے باشندوں اور اردگرد کے لوگوں سے یہ بھی دریافت کریں کہ دعوی کے بعد بھی دنیاوی معاملات میں وہ لوگ مرزا صاحب کو کیسا سمجھتے تھے سچا یا جھوٹا ؟ دنیاوی معاملات کی شرط میں اس لئے لگاتا ہوں کہ جب مخالفت ہو جاتی ہے تو جس امر میں مخالفت ہوتی ہے اس میں عام طور پر کمزور طبع لوگوں کو اپنے جوشوں کو حد کے اندر رکھنے کی طاقت حاصل نہیں ہوتی اور اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی اچھی بات بھی ان کو بڑی معلوم ہوتی ہے اور جب اس تحقیق کے بعد بھی اسی نتیجہ پر پہنچیں کہ حضرت مرزا صاحب کی زندگی بے لوث اور صادقوں کی زندگی تھی تو سمجھ لیں کہ ان پر جس قدر الزامات بعض مولوی صاحبان لگاتے ہیں وہ صرف ضد اور تعصب کا نتیجہ ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ ایک شخص کی زندگی شروع سے لے کر آخر تک صدق و راستی کا نمونہ ہو لیکن آخری عمر میں وہ اس بات کا عادی ہو جائے کہ دین کے معاملہ میں اور اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ جھوٹ بولنے لگ جائے اگر یہ ممکن ہو تو قرآن کریم کی سچائی مشتبہ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر حرف آتا ہے ۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ - اسی طرح آپ لوگ اپنے ورود قادیان سے فائدہ اٹھا کر یہ تحقیق بھی کریں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاب