انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 498

انوار العلوم جلد 4 ۴۹۸ تحفه شهزاده ویلیز نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ ان کو تکلیف دیگر ہم خدا کو خوش کرتے ہیں اور کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ خدا کو ناراض مگر مولویوں کو خوش کر رہا ہے ۔ جب مولویوں اور پادریوں اور دیگر فرقوں کے مذہبی لیڈروں نے دیکھا کہ اب بھی اس کی باتیں اثر کر رہی ہیں تو انہوں نے آپ کے خلاف جھوٹی باتیں شائع کرنی شروع کیں۔ اور گالیوں کے بھرے ہوئے اشتہار جن کو ایک شریف آدمی پڑھ بھی نہیں سکتا شائع کرنے لگے اور ایسے ایسے طریق ایذاء دہی کے ایجاد کئے کہ شاید پہلے نبیوں کے دشمنوں کو وہ نہیں سوجھے تھے ۔ اور بعضوں نے یہ دیکھ کر اشتہاروں کے ذریعے ان کے جوش نہیں نکل سکتے کیونکہ گورنمنٹ انگریزی کا قانون فحش کی اشاعت کا مانع ہے یہ طریق ایجاد کیا کہ خطوں میں سخت گندی گالیاں جن کو نہ تحریر میں لایا جا سکتا ہے اور نہ قانون اور اخلاق ان کو تحریر میں لانے کی اجازت دیتے ہیں بغیر نمٹ لگانے کے آپ کے پاس بھیج دیتے اور کئی ہزار خطوط اس قسم کے آپ کے پاس پہنچے جن کا محصول ادا کر کے جب ان کو کھولا گیا تو اندر سے گالیوں کے سوا کچھ نہ نکلا ۔ مگر آپ ان باتوں کی پرواہ نہ کرتے اور اپنا کام کئے جاتے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں عاجزانہ طور سے دعائیں کرتے کہ لوگوں کی آنکھیں کھول دے تا وہ تیرا چہرہ دکھیں اور میری ضد سے تیرے دروازہ کو نہ چھوڑیں اور اپنے لئے آپ نجات کے دروازے بند نہ کریں۔ آپ دن کو وعظ و نصیحت کرتے اور راتوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعائیں کرتے تا وہ دنیا پر رحم کرے اور اپنا چہرہ ظاہر کرے اور اسی طرح دن کے بعد دن، ہفتہ کے بعد ہفتہ اور مہینہ کے بعد مہینہ گزرتا اور اسی کام میں آپ مشغول رہتے اور خدا تعالیٰ کی طرف بلائے بغیر ایک دن بھی آرام نہ کرتے ، دیکھنے والے تھک جاتے ، باری باری مدد کرنے والے چور ہو جاتے مگر آپ با وجود کمزور صحت اور بڑی عمر کے نہ تھکتے نہ گھبراتے بلکہ خوش خوش خدا تعالی کی تبلیغ میں مشغول رہتے ۔ نہ گالیوں کی پرواہ کرتے اور نہ مخالفت کا خیال اور صرف اسی وقت سختی کا جواب دیتے جب یہ سمجھتے کہ اس کے بغیر دین کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، مگر آپ کا دشمن کے حملہ کا جواب اس کی اصلاح کی غرض سے ہوتا تھا نہ کہ کسی کو دکھ پہنچانے کے لئے ۔ جبکہ دشمن اپنی طاقت کے گھمنڈ میں تھا اور یہ خیال کرتا تھا کہ میں اس شخص کو جو اکیلا ہے ہیں ڈالوں گا وہ زبردست بادشاہ جس نے اسے بھیجا تھا کہ تا اس کے بندوں سے اس کے حقوق طلب کرے اسے بشارت پر بشارت دے رہا تھا اور تسلی پر تسلی دلا رہا تھا اور بجائے اس کے کہ