انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 486

انوار العلوم جلد 4 ۴۸۶ تحفه شهزاده و میز مان مر یہ وہ شخص نہیں جس نے کسی اعلی مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی پھر یہ علم کیونکر ہوگیا ؟ جس طرح کہ مسیح اول کی روحانی باتوں کو سن کر اس وقت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا یہ یوسف بڑھنی کا بیٹا نہیں ؟ اور اس کی مریم نہیں ؟ پھر اس نے یہ سب کچھ کہاں سے پایا ؟ دستی باب ۱۳- آیت ۵۵ - ۵۶ ) کچھ آپ کی طبیعت بچپن سے ہی ادب اور صداقت کی طرف مائل تھی اور پرانے پرانے لوگ جنہوں نے آپ کا بچپن دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کسی کو جھوٹ بولتے یا غور کو جھوٹ بولتے پانغو باتوں کی طرف مائل ہوتے یا اشاروں کی نقلیں لگاتے دیکھتے تو آپ اس سے جدا ہو جاتے اور کبھی گناہ کی طرف مائل نہ ہوتے بلکہ ہمیشہ علمی مشغلہ رکھتے ۔ جب آپ جوان ہوئے تو آپ کے والد صاحب نے چاہا کہ آپ کو سی کام پر لگائیں لیکن آپ نے اس امر کی طرف توجہ نہ کی اور رات دن دین کی باتوں کی طرف متوجہ رہتے اور لوگوں سے کم ملتے ۔ کھانا کم کھاتے اور اپنا کھانا الگ منگوالیتے اور چند قیم اور غریب لوگوں کو اکٹھا کر کے ان میں تقسیم کر دیتے اور بہت تھوڑا ساکھانا ان کے ساتھ بانٹ کر کھاتے اور جب ان کے والد چاہتے کہ آپ کسی کام پر لگیں تو آپ کہتے کہ جس کام پر میں نے لگنا تھا لگ گیا ہوں آپ میری فکر نہ کریں مگر آپ کے والد بعض دفعه نهایت افسردگی سے اپنے دوستوں سے ذکر کرتے کہ دیکھو یہ میرا بیٹا اپنے بھائیوں سے سہارے پر زندگی بسر کرے گا۔ اس کا مجھے بہت دکھ ہے مگر بعض دفعہ خوش ہو کر یہ بھی کہتے کہ اصل کام تو سہی ہے جس میں یہ لگا ہوا ہے ۔ اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جاکر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لئے ضلع کی کچہری میں ملازمت بھی کرلی ۔ وہاں کی رہائش کے ایام میں آپ کے لئے آسمان کے دروازے کھلنے لگے اور خدا کے فرشتے آپ پر نازل ہونے لگے اور آپ کو بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ غیب کی بہتاتا جو اپنے وقت میں پوری ہو جاتیں جس سے مختلف مذاہب کے لوگ جو آپ سے تعلق رکھتے تھے آپ کی قوت قدسیہ کے قائل ہونے لگے اور سب لوگ آپ کی نسبت محسوس کرنے لگے کہ آپ کی زندگی دنیا کے لئے عجیب ہوگی۔ اور الیسا ہوا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کئی قسم کی کرامتیں دکھانی شروع کیں جن کو ہند و سلمان دیکھے کر حیران ہونے لگے اور خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر ان کے ایمان بڑھنے لگے ۔ ۔ ایک دفعہ آپ کچھ اور دوستوں سمیت جن میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی ایک مکان میں سو رہے تھے کہ آپ کی آنکھ کھلی اور آپ کو ایک آواز سنائی دی جس سے آپ نے سمجھا کہ یہ چھت اب گرنے والی ہے آپ نے اپنے ساتھیوں کو جگایا اور ان کو یہ بات بتائی مگر انہوں نے اس کو معمولی سمجھا اور چھپت نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء