انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 477

انوار العلوم جلد 4 ۴۷۷ تحفه شهزاده ویلیز سلام ! دیوحنا باب ۱۹ - آیت ۳۰۲) اور بڑے بڑے عالموں نے ٹھٹھے مار مار کر کہا ۔ دمنی باب ۲۷ آیت ۲۹ نارتھ انڈیا بائیل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ (۱۸۷ء ) " اس نے اوروں کو بچایا ۔ پر آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پر سے اتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے ۔ اس نے خدا پر بھروسہ رکھا۔ اگر وہ اس کو چاہتا ہے تو وہ اب اس کو چھڑا دے کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں" رمنی باب ۲۷ آیت ۴۲، ۴۳ نار تھے انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور کہا کہ :- : تو جو ہیکل کا ڈھانے والا اور تین دن میں بنانے والا ہے۔ آپ کو بچا اگر تو خدا کا بیٹا ہے صلیب پر سے اُتر آ " امتی باب ۲۷ - آیت ۴۰ - ۴۳ )* گر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے جلال و جمال کا کامل مظہر تھا جب اس نے شریر اور سرکش انسان کو اس کے حد سے بڑھ جانے اور اخلاق اور دیانت بلکہ انسانیت کو بکلی نزرک کر دینے پر سزا دی تو اس زمانہ کے عالموں نے جو فقیہوں اور فریسیوں کے قائم مقام میں مسیح کی مثال کو یاد سے بھلاتے ہوئے اس پر آوازے کے کہ دیکھو وہ خدا کا نبی کہلاتا ہے اور اس کا مظہر اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے لیکن پھر اس کی تلوار دشمن کے سر پر اٹھتی ہے اور وہ اپنے مخالف کو تہ تیغ کرتا ہے۔ کیا راستبازوں کی کسی علامتیں ہوتی ہیں ؟ اور صادق سہی نمونہ دکھایا کرتے ہیں ؟ کیوں اس نے عفو سے کام نہ لیا ؟ اور کیوں بخشش کا دامن لوگوں کے سروں پر نہ ڈالا ؟ اور یہ معترض یہ نہیں دیکھتے کہ اس نے قدرت پر عفو کا نمونہ دکھایا اور قابو پا کر چھوڑ دیا اور گلے میں رسی ڈال کر آزاد کر دیا اور ملتی پر چھری رکھ کر زندگی بخشی اور اس قدر گنا ہوں کو معاف کیا کہ اگر اس کا عفو ہزار نبی پر بھی تقسیم کیا جائے تو سب اپنے عفو سے زیادہ حصہ پالیں ۔ ہاں جس طرح خدا تعالیٰ جو رحم کا سر چشمہ اور عفو کا منبع ہے اصلاح کے لئے نہ دُکھ دینے کے لئے شریر کو پکڑتا اور سزا دیتا ہے اس نے بھی ایسا ہی کیا تا خدا کا کامل منظر قرار پائے اور موسی کا مثیل بھر سے اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو آج یہی معترض جو اس کی دفاعی جنگوں پر حرف گیری کرتے ہیں زور زور سے اپنے گلے پھاڑتے اور آسمان کو سر پر اُٹھا لیتے کہ دیکھو وہ موٹی کا مثیل بنتا ہے لیکن دس ہزارہ قدوسی اس کے ساتھ نظر نہیں آتے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے اس کے ساتھ حملہ آور ہوں اور شریر اور شریعہ کو اس کی شرارت کی سزا دیں اور خدا کی بادشاہت کو زمین پر قائم کریں ۔ وہ آخری موعود اپنے آپ کو قرار دیتا ہے مگر یہ بات اس کے حق میں کب پوری ہوئی کہ ، دیا مگر یہ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰