انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 475

انوار العلوم جلد 4 ۴۷۵ تحفه شهزاده ویلیز نہ ہو یا پورا نہ ہوتو وہ بات خداوند نے نہیں کی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کمی ہے ؟ استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ نارتھ انڈیا بائیبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۱۸۷۰) کرو مگر جو کچھ برگزیدوں نے کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسمعیل کی اولاد میں سے خدا تعالیٰ نے موسی کی مانند ایک نبی برپا کیا جس کے ذریعہ سے ہدایت کا باغ بنی اسرائیل سے لے کر مسلمانوں کے سپر د کیا گیا اور وہ جسے راج گیروں نے رد کیا تھا کونے کا پتھر ہوا جو اس پر گرائینی جو اس کے شہر پر جا کر حملہ آور ہوا وہ بھی چکنا چور ہوا اور جس پر وہ گرا یعنی جس پر اس نے جا کر حملہ کیا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور جس نے اس کی بات نہ سنی اس سے خدا نے اس کا حساب لیا ۔ اس وجود سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ یہ نبی ان کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد آئے گا اور نہ کلیسیا اس سے مراد ہو سکتا ہے کیونکہ کلیسیا نبی نہیں ہے اور نوشتے بناتے ہیں کہ وہ آنے والا ایک نبی ہوگا جو مونٹی کی مانند خدا کے جلال کا ظاہر کرنے والا ہو گا اور شریعت اس کے داہنے ہاتھ میں ہوگی اور وہ ملکہ کی پہاڑیوں پر سے جو خاران کہلاتی ہیں دس ہزار قدوسیوں سمیت خدا کے دشمنوں پر حملہ آور ہوگا ۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ :- آئی ۔ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے ۔ وہ جلوہ گر ہوا ۔ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک اکنشی شریعت ان کے لئے تھی " استثناء باب ۳۳ آیت ۲ نارتھ انڈیا بائیل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) کلیسیا نہ نبی ہے نہ فاران سے وہ جلوہ گر ہوئی اور نہ دس ہزار قدوسیوں سمیت وہ دنیا میں یہ فاران سے جلوہ گر ہونے والا خدا کا منظر وہی سردار انبیاء سرور کائنات سید ولد آدم کامل و امل و مکمل و مکمل حامد واحمد و محمد ومحمود وجود تھا جس کی قوم کو اس کے بنو عم نے خدا کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم قرار دیا اور جسے اس کی قوم کے سرداروں نے ردی کر کے اپنے میں سے نکال پھینکا مگر آخر وہی کونے کا پتھر ہوا ۔ اور یا تو صرف ایک ہمرا ہی سمیت اسے مکہ چھوڑ کر وطن سے بے وطن ہونا پڑا تھا یا اسے خدا نے وہ ترقی دی کہ جب اس کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو مٹانے کے لئے اور میست و نابود کرنے کے لئے اس کی قوم کے لوگ دو سو میل کا فاصلہ طے کر کے ایک زبردست شکر کے ساتھ اس پر حملہ آور ہوئے تو جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا コーニュ