انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 464

انوار العلوم جلد 4 تحفه شهزاده و بیلیز مولوی صاحب کا حال معلوم ہوا تو اس نے ان کو واپسی کا حکم دیا جس پر وہ ہندوستان سے واپس آگئے اور راستہ میں نئے عقیدے کی تعلیم دیتے چلے آئے مگر جونہی وہ اندرونی ملک میں آگئے ان کو قید کر لیا گیا ہے۔ مسٹر مارٹن لکھتے ہیں کہ جب ملانوں نے ان کے سزا دینے کی کوئی وجہ نہ پائی تو امی نے پھر کہا کہ اس آدمی کو ضرور سزا ملنی چاہئے اور پھر ان کو علماء کے پاس بھیجا گیا اور کہا گیا کہ وہ ایک کاغذ پر جس پر مضمون لکھا ہو کہ وہ مرتد ہو گیا ہے اس اور کیا وہ لئے واجب القتل ہے دستخط کر دیں ۔ پھر بھی علماء میں سے اکثر نے یہی کہا کہ وہ مذاہب نے کہا کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کے الزام سے بری ہے لیکن دو کلاں جو سردار نصر اللہ خان کے دوست تھے اور ان کو اس نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا انہوں نے ان کی ، اور نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا کی موت کا فتویٰ لکھ دیا اور ان دو مولویوں کے فتوے کی بناء پر امیر نے ان کی موت کا حکم دیا اور وہ سنگسار کئے گئے تھے مسٹر مارین مولوی صاحب کی شخصیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ له سے ان کے متبعین بڑی تعداد میں تھے اور بڑے طاقتور لوگ ان میں شامل تھے۔ اے کو کچھ عرصہ کے بعد ان تکالیف میں ایک عرصہ کے لئے کمی آگئی تھی مگر جب ہندوستان میں سیاسی تحریک کی ابتداء ہوئی اور وزیر ہند صاحب کے آنے پر ہماری جماعت نے بڑے زور سے اس امر کو پیش کیا کہ برٹش گورنمنٹ کا استحکام اس ملک کے لئے ایک برکت ہے تو پھر اس جماعات کے خلاف جوش پیدا ہو گیا اور ہمیں اس کی پہلے ہی سے امید تھی اور میں نے وزیر ہند صاحب سے بموقع ملاقات کہ دیا تھا کہ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد ہماری مخالفت ملک میں بہت بڑھ جائے گی ۔ اس دفعہ لوگوں کے جوش نے ایک اور صورت اختیار کی اور بعض علاقوں میں بچوں کو صورت اختیار کی میں سکولوں سے روک دیا گیا اور وہ تعلیم کو چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر مجبور ہو گئے اور ایک جگہ تو ایک احمدی عورت کی لاش قبر میں سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دی گئی اور اگر فوراً مدد نہ پہنچ جاتی تو قریب تھا کہ اس کو کتے کھا جاتے ۔ اور اس وقت سے یہ سلسلہ مخالفت بڑھتا ہی یہ چلا گیا مگر اس پر بھی اس جماعت نے اپنے امن پسند رویہ کو ترک نہ کیا اور مارشل لاء کے دنوں میں جبکہ نہایت خطرناک صورت پیدا ہو گئی تھی اور بعض جگہ حکام سرکاری بھی شہروں کو چھوڑ کر محفوظ جگہوں میں جا بیٹھے تھے اس کمزور جماعت نے نہ صرف خود گورنمنٹ کی وفاداری