انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 460

انوار العلوم جلد 4 الدماء شخصه شهزاده و نیز مرکز سلسلہ قادیان میں سالانہ جلسہ کے لئے جمع ہوئے تھے میری تحریک پر اس امر کا فیصلہ کیا کہ ان کی طرف سے ایک تحفہ جناب کے سفر ہندوستان کی تقریب پر جناب کی خدمت میں پیش کیا جائے اور یہ تحفہ اس قسم کا ہو جس قسم کا تحفہ کہ سلسلہ احمدیہ کے بانی نے جناب کی جدہ مکرمہ ملکہ وکٹوریہ کوبھیجا تھا اور انہوں نے کمال شوق سے اس کو قبول کیا اور اس پر خوشنودی کا اظہا بہ فرمایا تھا۔ اس تجویز کے پیش ہونے پر غریب اور امیر سب نے یک زبان ہو کر اس میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی اور ہر ایک کا دل اس فرحت سے بھر گیا کہ اگر وہ آپ کو اپنے گھر پر نہیں بلاسکتا تو کم سے کم اس تحفہ کے ذریعہ سے وہ اپنے خلوص کی یاد ہمیشہ کے لئے آپ کے دل میں تازہ کرتا رہے گا۔ میرے مکرم شہزادہ ! یہ تحفہ ان چیزوں سے بنا ہوا نہیں جو زمین کی ہیں اور جن کے متعلق ڈر رہتا ہے کہ چور ان کو چرا لے جائے یا زمین کے کیڑے اس کو کھا جائیں نہ یہ تحفہ ایسا ہے کہ جو آپ کے والد مکرم کے وسیع خزانوں میں ملتا ہو بلکہ یہ تحفہ ایسا نایاب ہے کہ اس وقت دنیا کے تمام بادشاہوں کے خزانے اس سے خالی ہیں اور بڑے بڑے بنکوں کی مجموعی دولت اس کے خریدنے سے قاصر ہے ۔ اے شہزادہ عالی قدر ! یہ تحفہ ایسا نادر ہے کہ باقی اموال اور امتعہ کی طرح مرتے وقت اسے اسی دنیا میں چھوڑ کر جانا نہیں پڑتا بلکہ یہ مرنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ جاتا ہے اور اس جہان میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا ہے۔ اے شہزادہ ذی مرتبت ! پھر یہ ایسا تحفہ نہیں کہ میر نے والے کے ساتھ چلا جائے اور پچھلے اس سے محروم رہ جائیں بلکہ یہ تحفہ اپنے اندر تقسیم در تقسیم کی خاصیت رکھتا ہے اور جس کے پانس یہ ہوتا ہے نہ صرف دونوں جہانوں میں اس کا ہی ساتھ دیتا ہے بلکہ اس کی اولاد اور پس ماندگان سے بھی علیحدہ نہیں رہتا اور باوجود تقسیم ہونے کے اس میں کمی نہیں آتی۔ اے شہزادہ والا ادہ والا شان ! اس تحفہ کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جس کے پاس ہو اس کا دل مضبوط ہو جاتا ہے اور اس کے اندر آسمانی نور کا دہانہ آکر کھل جاتا ہے اور وہ شخص ہر قسم کی تاریخی سے بیچ جاتا ہے اور خدا کے فرشتے اس پر رحمت کے پروں کا آکر سایہ کرتے ہیں اور اگر وہ پہاڑوں کو کہے که چلو تو وہ چلنے لگتے ہیں اور اگر وہ دریاؤں کو کہے کہ مجھے اپنے اوپر چلنے دو تو وہ اسے چلنے دیتے ہیں اور اگر بیماروں کو کہے کہ اچھے ہو جاؤ تو وہ اچھے ہو جاتے ہیں اور دلوں کے اندھے اس کے کہنے کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں اور روحانی مرد سے اس کے حکم پر زندہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور