انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 453

انوار العلوم جلد 4 ہیں کہ بھوکا نہ رہ جائے۔ ۴۵۳ هستی باری تعالی غرض اس صفت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا باپ یا ماں فرض کرے اور لوگوں کے فائدے کا خود خیال رکھے اور خواہ لوگ اس کی بات نہ بھی مائیں تب بھی ان کے پیچھے پڑا رہے۔ جب انسان اپنے قلب کو لیا بنا لیا ہے تو ایسے آدمی کو ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم اس سے کچھ لے سکتے ہیں ان پر وہ جبر بھی کر سکتا ہے اور سزائیں بھی دے لیتا ہے اور اس طرح ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو منتخب کر کے ان کو سکھاتا ہے جب وہ مر جاتا ہے تو جن کو اس نے سکھایا ہوتا ہے وہ دوسروں کو سکھاتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسی نسل کا باپ نہیں ہوتا جس کو سکھاتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کا بھی باپ ہوتا ہے۔ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی ہمارے باپ ہیں جس طرح کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے باپ تھے اس مقام کا انسان اپنی ہمدردی کو کسی مذہب کے آدمیوں سے محدود نہیں کرتا بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کا ہمدرد ہوتا ہے اور سب کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جس کے کامل اور اکمل منظر محمدرسول اللہ رب العالمین کا کامل مظهر الی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ رب العالمین کا کامل مظہر وہی ہو سکتا ہے جو سیلوں کی بھی تربیت کرے اور پھلوں کی بھی اور یہ مقام سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو حاصل نہیں آپ ہی ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب آدم ابھی مٹی میں تھا اس وقت میں خاتم النبیین تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لئے پہلوں کی تربیت کرنے والے نہیں کہ آپ نے براہ راست ان کو سکھایا بلکہ اس لئے کہ پہلے نبی اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نقطہ تک لے جائیں ۔ پس رسول کریم ہی کامل طور پر رب العالمین کی صفت کے مظہر تھے اور یہی وہ درجہ ہے جس کا پانے والا الحمد کا تحق ہوتا ہے اور اسی لئے رسول کریم کا نام محمد رکھا گیا کہ سب تعریفیں آپ میں جمع ہوگئیں اور یہ ناممکن تھا کہ بغیر محمد نام کے خاتم النبیین نبی ہوتا پس آپ کا نام بھی آپ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ رب العالمین کا دوسرا ظل مسیح موعود ہیں غرض رسول کریم صفات الہی کا کامل مظہر ہیں مگر مسیح موعود بھی بوجہ مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۲۸۰۱۲۷