انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 442

انوار العلوم جلد 4 ۴۴۲ هستی باری تعالی یہ صفت اتنی مخفی ہے کہ بعض اوقات لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے کب کوئی چیز پیدا کی ہے اب پیدا کر کے دکھائے۔ پھر ربوبیت کی صفت کے ماتحت وہ میلان بھی ہے جو ماں باپ کے اندر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ماں باپ پرورش کرتے ہیں۔ تو گویا خدا کی ربوبیت یہ ہوئی کہ اس نے بندہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے اندر وہ طاقتیں پیدا کی ہیں جن سے آگے انسان پیدا ہو سکے پھر جس طرح بچہ کو ماں باپ بڑھاتے ہیں کہ بڑا ہو کر ان کے کام آئے اسی طرح خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ خدا نے انسان کو سمجھنے کی طاقتیں دیں ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ سے اسے سمجھ سکے اور ان طاقتوں کے پیدا کرنے میں اس نے جبر سے کام لیا ہے یعنی انسان کا اختیار نہیں رکھا کہ وہ طاقتیں لے یا نہ لے بعینہ جس طرح ماں باپ بچے کو بچپن میں میں جبراً تعلیم د تعلیم دیتے ہیں۔ اسی صفت کے ماتحت انسان کو انسانیت مطلقہ دی جاتی ہے اگر خدا تعالیٰ جبراً یہ طاقتیں سب کو نہ دے تو سب انسان مکلف بھی نہ رہیں ہاں جب انسان کو سمجھ آتی ہے تو پھر یہ اس کے ارادہ پر منحصر ہے کہ وہ ان طاقتوں کو استعمال کرے یا نہ کرے جس طرح کہ ماں باپ بچے کو پڑھا دیتے ہیں آگے وہ اس علیم سے کام لے یا نہے یہ اس کے ارادے پر منحصر ہے۔ چونکہ یہ صفت ہر ذرہ ذرہ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے بوجہ اپنی وسعت کے اس قدر نمایاں نہیں اور انسان بھی اس کی طرف قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ بعض خدا تعالیٰ کو ماننے والے بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ کس نے کہا تھا کہ خدا ہمیں پیدا کر ہے ۔ صفت رحمانیت اور رحیمیت کا جلوہ چونکہ ربوبیت کی صفت بہت مخفی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات نے اور تنزل کیا اور صفت رحمانیت کا جلوہ دکھایا اور رحمانیت کے جلوہ میں ایسی چیزیں انسان کے لئے مہیا کیں کہ جن کی اسے ضرورت تھی۔ جیسے ہوا ، سورج ، چاند وغیرہ چونکہ یہ جلوہ زیادہ ظاہر ہے لوگ اسکی قدر نسبتا زیادہ کرتے ہیں اور یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارے آرام کے لئے اسقدر سامان پیدا کیا ہے مگر پھر بھی یہ صفت ایک حد تک مخفی ہی ہے کیونکہ اس کا تعلق انسانی اعمال سے نہیں ہوتا اعمال سے نہیں ہوتا اس لئے اس کا تعلق کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ جنس سے ہوتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے ایک اور منزل تیار کی اور وہ صفت رحیمیت ہے اس کے معنے ہیں کہ انسان کام کرے تو بدلا پائے جو کام نہ کرے وہ نہ پائے۔ اس صفت کے ماتحت خدا تعالیٰ کا تعلق افراد سے بھی قائم ہو گیا پس اس کا ظہور اور زیادہ واضح ہے ۔