انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 425

انوار العلوم جلد 4 حاصل کرتی چلی جائے گی۔ ۴۲۵ ہستی باری تعالی غرض خدا تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہے کہ رؤیت کے نتیجہ میں خوبصورتی حاصل ہوتی ہے حدیث شکلیں کیسے بدل گئیں ؟ وہ کہیں گے ہم حقدار تھے کہ ہماری شکلیں بدل کر خوبصورت ہو جاتیں کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ہے ۔ تو جن کو رویت الہی حاصل ہوتی ہے ان کی رو میں بدلتی جاتی ہیں اسی دنیا میں دیکھ لو جن کو خدا کی رویت ہوتی ہے ان کی رو میں کیسی اعلی اور اور ہی طرح کی ہو جاتی ہیں اور نہ صرف ان کی رو میں اعلیٰ ہو جاتی ہیں بلکہ ان کے جسم پر بھی نور برستا اور ان کی نیکی ظاہر ہوتی ہے۔ شاید بعض کے دل میں خیال پیدا ہو کہ رؤیت الٹی کی صورت یہ خدا کا شکل اختیار کرنا بات کی ہے اور نظری می ایس بتائی گئی ہے کہ خدا کی صفات متمثل ہو کر نظر آتی ہیں پس اصل چیز تو نہ دیکھی گئی پھر دیدار کے کیا معنے ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی رویت بھی وہمی رویت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی رویت ہوتی ہے اس لئے کہ غیر محدود ذات کی رویت اسی طرح ہو سکتی ہے اصل غرض تو نتائج سے ہے اور رویت کے جو نتائج ہوا کرتے ہیں وہ اسی قسم کی رویت سے پورے ہو جاتے ہیں اس کی مثال سورج کی سی ہے جسے آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا شاید بعض لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے ؟ مگر حقیقت یہی ہے کہ اصل سورج کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اور چیزوں کی رفتار پر وقت لگتا ہے اسی طرح روشنی کی رفتار پر بھی وقت لگتا ہے نا ہے کی بھی لگتا جس کا اندازہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا ہے۔ چونکہ سورج دنیا سے نو کروڑ میل کے فاصلہ پر ہے اس لئے سورج کی روشنی دنیا میں آٹھ منٹ کے قریب میں پہنچتی ہے اور چونکہ زمین چکر کھا رہی ہے اس لئے جس وقت سورج کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے اس وقت تک سورج اس جگہ سے آٹھ منٹ کا سفر آگے کی طرف طے کر چکا ہوتا ہے اور ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ سورج نہیں بلکہ اس کی آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں ہوتی ہیں اور جس جگہ سورج کو دیکھتے ہیں در حقیقت وہ وہاں بھی نہیں بلکہ اس سے قریباً سوا سو میل آگے ہوتا ہے کیونکہ اس عرصہ میں زمین سوا سو میل کے قریب چکر کھا چکی ہوتی ہے ۔ اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوب رہا ہے تو اس سے سات منٹ پہلے سورج ڈوب