انوارالعلوم (جلد 6) — Page 422
انوار المعلوم جلد 4 معلوم ہوتے ہیں۔ ۴۲۲ هستی باری تعالی ایک تو وہ درجہ ہے جس میں منافق بھی شامل ہیں۔ حدیث میں رویت الٹی کا پہلا درجہ ایک آتا ہے کہ قیامت کو جب حشر میں لوگ کھڑے کئے جائیں گے تو ان کو آوازہ آئے گی کہ صلیب کے متبع اس کے پیچھے اور بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے اور دوسرے مشرک جن جن کو خدا کا شریک مقرر کرتے تھے ان کے پیچھے چل پڑیں اور یہ چیزیں ان کے لئے تشکر کے لئے جائیں گی ان کے پجاری ان کے پیچھے چلے جائیں تھے ان تھے متمثل کرکے ۔ جانے کے بعد مسلمان باقی رہ جائیں گے یعنی ساری اُمتوں کے مسلمان ان کے ساتھ منافق بھی ہوں گے تب خدا آئے گا اور ایسی شکل میں آئے گا کہ جسے بندے پہچانتے ہوں گے اور کے گا کہ میں خدا ہوں میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ الله ربنا ہم تیرے پیچھے نہیں چلتے اور ہم خداکی پناہ مانگتے ہیں پھر خدا تعالیٰ غائب ہو جائے گا اور کسی دوسری شکل میں جلوہ گری کرے گا اور کہے گا میرے پیچھے آؤ اس وقت وہ کہیں گے هَذَا مَكَانَنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا کہ ہم تیرے متبع نہیں اور ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں * یہ ظاہر ہونے والا وجود بھی در حقیقت خدا تعالیٰ کی متمثل صفات ہی ہوں گی اس لئے اس کا دیکھنا بھی خدا کا دیکھنا ہی ہے اور منافق اس رویت میں مؤمنوں کے شریک ہوں گے لیکن کا فراس سے بھی محروم رہیں گے جس طرح منافقوں نے ظاہر میں اسلام کو دیکھا ہوتا ہے حقیقی طور پر نہیں دیکھا ہوتا اسی طرح جب خدا تعالٰی اپنی اصلی صفات میں جلوہ گر نہیں ہو گا بلکہ اس کی صفات تنزل کا ایک نہایت ہی کثیف پردہ اوڑھے ہوئے ہونگی جیسے کہ خواب میں بعض لوگ خدا تعالیٰ کو باپ کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں اور جس کے متعلق کہ بندہ کو خیال بھی نہیں آسکے گا کہ یہ خدا کا جلوہ ہے ۔ اس وقت تو منافق دو قسم کی تجلی دیکھ لیں گے مگر جب پھر اس کے بعد خدا آئیگا اور اعلیٰ تجلی کر کے کہے گا کہ سجدہ کرو اور سب اس کے آگے جھکیں گے تب منافقوں کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اور وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر جھک نہ سکیں گے۔ تب ان کو کہا جائے گا کہ تم میرے لئے عبادت نہ کرتے تھے اس لئے آج حقیقی تجلی پر عبادت کی توفیق چھینی گئی۔ اه ترمذى البواب صفة الجنة باب ما جاء في خلود أهل الجنة وأهل النار