انوارالعلوم (جلد 6) — Page 407
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۷ هستی باری تعالیٰ حضرت مسیح موعود کے ایک الہام کا مطلب لوگ اس الہام پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور روزہ کھولا کرتا ہوں اور لغوی معنے یہ ہیں کہ میں رکھتا ہوں اور روک کو دور کرنے : کے وقت کو پاتا ہوں مگر مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میں بعض صفات کو روک دیتا ہوں کہ اور دوسرا وقت ایسا آتا ہے کہ میں انہیں جاری کرتا ہوں ۔ پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی ہے جو دوسری صفات سے کام لیتی ہے بعض کو آگے پیچھے کرتی ہے بعض کو روکتی ہے اور بعض کو جاری کرتی ہے ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک وقت اپنی صفات کو روکتا اور پھر جاری کرتا ہے۔ تو پھر انٹر اور انوم کیوں کیا ؟ یہ کیوں نہ کہ دیا کہ میں صفات کو روکتا بھی ہوں اور کھولتا بھی ہوں۔ الهام مسیح موعود کے پر حکمت الفاظ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتیں وسیع منے رکھتی ہیں اور میں رکھتا ہوں اور کھولتا ہوں کہنے میں وہ لطف نہ ہوتا جو انظر و اصوم میں ہے۔ یہ الفاظ کہ کر خدا تعالیٰ نے اپنے فعل کو روزہ دار کے فعل سے تشبیہ دی ہے اور تین موٹی موٹی باتیں ہیں جو روزہ دار میں پائی جاتی ہیں۔ اول یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے رکتا ہے جو اس کے قبضہ اور اختیار میں ہوتی ہیں۔ مثلاً کھانا ہوتا ہے مگر وہ نہیں کھاتا ۔ گویا وہ احتیاج کے طور پر نہیں رکتا بلکہ باوجود قدرت کے اپنی مرضی سے رکتا ہے اسی طرح جب افطار کرتا ہے تو بھوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے کے ماتحت اور اپنی خوشی سے ایسا کرتا ہے۔ گویا اس مشابہت سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض صفات جن کو خدا تعالیٰ روکتا ہے اپنی مرضی سے روکتا ہے نہ بوجہ احتیاج کے اور بعض صفات جن کو کھولتا ہے ان کو بھی اپنی مرضی سے کھولتا ہے نہ کہ بسبب احتیاج کے۔ دوسرے اس مشابہت سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ خالی رکھنا اندرونی تکان کے سبب ہے سے بھی ہو سکتا ہے یعنی گو بیرونی مجبوری کوئی نہ ہو لیکن اپنے نفس میں تکان پیدا ہو جائے جیسے آدمی کا کھاتے کھاتے پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے لیکن روزہ دار اس لئے کھانے سے نہیں رکھتا کہ وہ کھا نہیں سکتا یا اس میں کھانے کی طاقت نہیں رہتی بلکہ