انوارالعلوم (جلد 6) — Page 389
انوار العلوم جلد 4 ۳۸۹ بستی یاری تعالٰی مفید ثابت ہو رہی ہیں اسی طرح کئی چیزیں پہلے موذی خیال کی جاتی تھیں اب ان کے فوائد ظاہر ہو رہے ہیں یہیں اپنے ناقص علم کی وجہ سے ان چیزوں کی نسبت کہنا کہ یہ صرف مضر ہیں درست نہیں ۔ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رحیم ہے مگر اپنے خزانوں کو حکمت کے ماتحت تقسیم چوتھا جواب کرتا ہے اور اس بناء پر کوئی عقلمند اس کی نسبت اعتراض نہیں کر سکتا۔ دال کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ فلاں شخص ظالم ہے کیونکہ اس نے مجھے دس روپے دیئے ہیں تو نہیں دینے حالانکہ اس کے گھر میں روپے موجود تھے ہرگز نہیں کیونکہ اس کا دس روپے دینا اس کی رحیمی پر ہے نہ کہ ظلم پر ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے چیزوں میں بعض فوائد رکھتے ہیں اور بعض مفریں ۔ مضرتوں سے علیحدہ رہو اور جتنے خواند دیے ہیں ان کو کران سے فائدہ اٹھاؤ کوئی سے رہو بے سے علیحدہ رہو اور جتنے فوائد دیئے ہیں ان کو رحم سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھا تیر نہیں کے گا کہ فلاں شخص ظالم ہے کیونکہ اس نے مجھے ، آنے دیئے ہیں روپیہ نہیں دیا۔ دینے والے کا رحم ان آٹھ آنوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نے دیئے ہیں لیکن اس کا ظلم ہرگز اس ہزار روپیہ سے ظاہر نہیں ہوتا جو اس نے نہیں دیا۔ یہ کہ مضرتوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے تا ظاہر فرمائے کہ پانچواں جواب کون سے لوگ ناشکرے ہیں لیس مضرتوں کا یہ بھی فائدہ ہے کہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ کس کی محبت خود غرضانہ ہے اور کس کا تعلق مخلصانہ کئی لوگ ہوتے ہیں جو آرام اور آسائش میں تو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں لیکن تکلیف پر شور مچا دیتے ہیں۔ لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو تکلیف کے وقت بھی خدا کو نہیں بھولتے اور دراصل یہیں خدا کے پیارے اور محبوب ہوتے ہیں۔ حضرت لقمان کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ گرفتار ہو کر کسی کے پاس پک گئے مگر جس مالک کے پاس گئے وہ ان سے بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ ایک دن اس کے پاس بے فصل کا خربوزہ تحفہ آیا اس نے اس میں سے ایک پھانک کاٹ کر انہیں کھانے کے لئے دی جیسے انہوں نے بہت ہی مزے سے کھایا۔ اس نے یہ خیال کر کے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خربوزہ انہیں بہت پسند آیا ہے ایک پھانک کاٹ کر اور دی وہ بھی انہوں نے خوب مزے سے کھائی اس نے ایک پھانک اور دی اور اس کے بعد خود شوق سے ایک پھانک کا ٹکڑا منہ میں ڈال لیکن اسے وہ خربوزہ الیسا بدمزا معلوم ہوا کہ فوراً تھے آگئی ۔ اس نے حضرت نعمان سے پوچھا کہ ایسا کروا خربوزہ تم مزے لے لے کر کیوں کھاتے رہے؟ کیوں نہ مجھے بتایا کہ میں باربار پھانکیں کاٹ کر نہیں ا