انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 370

1 انوار العلوم 4 ٣٤٠ ہستی باری تعالی کی بھی یہی حالت ہو گی اس لئے انہوں نے سب سے بڑی عظمت خدا کی یہی سمجھی کہ جب وہ سوتا ہوگا تو پچھی جسے وہ دولت کی دیوی سمجھتے ہیں پر میشور کے پاس آتی اور اس کے پاؤں سہلاتی ہوگی۔ اس طرح عیسائیوں کے عجیب و غریب خیالات ہیں ۔ آج کل ان میں رواج ہے کہ لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ دلانے کے لئے ناٹک دکھاتے ہیں ایک قصہ مشہور ہے جس میں یہ نقشہ کھینچا جاتا ہے کہ لیسوع کو صلیب پر چڑھانے لگے ہیں ایک دوسرا کمرہ ہے جس میں خدا سو رہا ہے ایک شخص جاتا ہے اور جا کر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ باپ اُٹھ بیٹا صلیب پر چڑھنے لگا ہے اس پر خدا آنکھیں ملتا ہوا اُٹھتا ہے اور کہتا ہے میری روح کو شیطان ہی لے جائے اگر مجھے اس بات کا پتہ لگا ہو۔ پس پسندیدہ طریق یہی ہے کہ اپنی طرف سے خدا کے متعلق کوئی بات نہ تجویز کی جائے ۔ جیسے ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِه ۔ ( الانعام : ٩٢ ) : ۹۲ ) اپنی طرف سے خدا کے متعلق باتیں بنانے والے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں ، جیسے عیسائیوں نے اسے عادل بنایا اور پھر کہہ دیا کہ وہ رحم نہیں کر سکتا دیکھو وہ کہاں سے کہاں نکل گئے تو خدا تعالیٰ کے اسماء وہی درست ہو سکتے ہیں جو خدا نے خود بتائے ہیں۔ خدا کے کسی فعل سے بھی نام نہیں بنانا چاہئے ایک اور اس اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایک اچھا ہم اپنی عقل سے تو خدا کا کوئی نام تجویز نہ کریں۔ لیکن جو باتیں خدا نے اپنی طرف خود منسوب کی نہیں ان سے نام بنائیں تو کیا حرج ہے ؟ ؟ میرے نزدیک اس طرح بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا فعل شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ لیکن نام میں وہ بات نہیں ہو سکتی جیسے آتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيراً اور دوسری جگہ فرمادیا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِينَ ( البقرة : ۲۷) اب اگر کوئی خدا کو یا مُضِل کرکے مخاطب کرے تو یہ درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ يُضِلُّی کا فعل ایک شرط کے ساتھ استعمال ہوا ہے جو نام سے ظاہر نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کے نام وہی ہو سکتے ہیں جو اس نے خود بتائے ہیں ۔ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنائے ہیں یا پھر مسیح موعود نے بتائے ہیں کیونکہ خدا کے رسول اپنے پاس سے نام نہیں تجویز کرتے بلکہ الہام الہی سے ان کو ان پر مطلع کیا جاتا ہے ۔