انوارالعلوم (جلد 6) — Page 345
انوار العلوم جلد 4 ۳۴۵ ہستی باری تعالی اللہ کیا ہے ؟ نام معلوم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذات جس کا نام اللہ ہے وہ کیا ہے ؟ گویا اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ یا ہوا کھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس کا نام ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ ہے کیا ؟ سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کے متعلق ان شد تعالیٰ کے متعلق اہلِ یورپ کا خیال سب اہل یورپ کے خیالات کو بیان کرتا ہوں اہل جو خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ خدا ہے تو سہی لیکن اس نے دنیا کو پیدا یہ ہے دنیا کو کر کے چھوڑ دیا ہے اب اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھتے سے کوئی کا کہ خدا اب بھی کچھ پیدا کرتا ہو اس لئے معلوم ہوا کہ اب کچھ کرنے سے وہ معطل ہو گیا ہے اور کرتا ہوا اس لئے مخلوق کا عملاً اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کے لحاظ سے تو خدا بیشک معطل ہی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو اخلاقی ہدایت کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں نیک خیال ڈالتا رہتا ہے۔ ان لوگوں کی یہ بھی یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ اتنا وجود تو خدا تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں ۔ آئندہ کے متعلق ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھیجا ہے اس لئے اگر اس کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے گی تو سزا دے گا۔ بعض کہتے ہیں خدا کا سہرا سے کیا تعلق ؟ کیا ہماری یہ مہربانی کم ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیدا کیا اگر ہم اس کے دس بیش احکام نہیں مانتے تو سزا کیسی ؟ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے جو احکام مانتے ہیں ان کا انعام دے گا اور جو نہیں مانتے ان کی سزا نہیں دے گا۔ یورپ کے ایک فلاسفر سلے نے صرف انعام دینے والے اصل پر بڑا زور دیا ہے بعض لوگوں نے اس کے سزا کی نفی پر بہت ہی زور دینے کی یہ وجہ لکھی ہے کہ اس کے اعصاب بہت تیز تھے اور وہ درد بہت زیادہ محسوس کرتا تھا اس لئے اس کی طبیعت اس امر کو مان ہی نہیں سکتی تھی کہ خدا عذاب بھی دے سکتا ہے۔ یہیں اس نے بدی کی سزا کا تو انکار کر دیا اور نیکی کے انعام کو قائم رکھا۔ دیا اب میں مختلف مذاہب کے پیش کردہ خیالات کو مسیحیوں کا خدا کے متعلق خیال ایک ایک کر کے لیتاہوں اور بتاتا ہوں کہ وہ خدا تعالی