انوارالعلوم (جلد 6) — Page 322
انوار العلوم جلد 4 ۳۲۲ هستی باری تعالی سے کتنوں کے متعلق کہو گے کہ ان کے دماغ خراب ہو گئے اس لئے یہ شبہ بالکل غلط ہے ۔ صفت مجیب خدا کی ہستی کا ثبوت تیسری مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت مجیب کو بیان کرتا ہوں جس قدر لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کے مدعی گزرے ہیں سب کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا مجیب ہے دُعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ - اب اب اگر تجربہ سے ثابت ہو جائے کہ خدا تعالٰی کی یہ صفت ہے کہ کوئی دعاؤں کو قبول کرنے والی ہستی موجود ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ اس امر میں بھی کہ وہ سمیع اور محبیب ہے۔ سمیع تو اس طرح کہ بندہ کہتا ہے اور وہ سنتا ہے اور مجیب اس طرح کہ بندہ کی عرض قبول کرتا ہے اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں دُعاؤں کی قبولیت کو پیش کرتا ہوں کسی کسی رنگ میں انسان دعا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کس طرح اس کے لئے ناممکن کو ممکن کر کے دکھا دیتا ہے یہ ایک ایسا حیرت انگیز مشاہدہ ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا انکار ایک قسم کا جنون ہی معلوم دیتا ہے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کے دیکھنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بارہا حیرت انگیز ذرائع سے دعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے۔ نواب محمد علی خان صاب کے صاحبزادے میاں عبدالرحیم خان صاحب کے واقعہ کو ہی دیکھ لو وہ ایک دفعہ ایسے بیمار ہوئے کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب یہ بیچ نہیں سکتے ۔ حضرت صاحب نے دعا کی کہ خدا یا اگر اس کی موت آچکی ہے تو میں اس کی شفاعت کرتا ہوں تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کی شفاعت کر سکے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سن کر مجھ پر استقدر رعب طاری ہوا کہ گویا جسم میں سے جان نکل گئی اور میں ایک مردے کی طرح جا پڑا اور پھر الہام ہوا کہ اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہے چنانچہ آپ نے پھر دنیا کی اور وہ قبول ہو گئی ۔ آپ نے اسی وقت باہر نکل کر یہ بات لوگوں کو سنا دی اور میاں عبدالرحیم خان جن کی نسبت ڈاکٹر اور حکیم کہہ چکے تھے کہ انسان کی آخری گھڑیاں ہیں ۔ اسی وقت سے اچھے ہونے لگ گئے اور اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور اس وقت ولایت تعلیم کے۔ ولایت تعلیم کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ دنظر ثانی کے وقت وہ خدا کے فضل سے ¥ بیرسٹری کے امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں ) ۔ غرض دُعائیں ایسے رنگ میں قبول ہوتی ہیں کہ جو امور ناممکنات میں سے سمجھے جاتے ہیں ؟ مانا پڑتا ہے کہ کسی بالا ہستی کی قضاء کے ماتحت ان کی قبولیت وقوع میں آتی ہے۔ تذکره صفحه ۴۹۶۲۴۹۵ ایڈیشن چهارم