انوارالعلوم (جلد 6) — Page 17
انوار العلوم جلد 4 14 موازنہ مذاہب تیار ہیں ۔ اگر ہم آہنگر یا زمیندار یا سنار سے اس کے کام کے متعلق گفتگو کریں۔ تو وہ اپنے اپنے کام کی تشریح کر کے بتائیں گے۔ مگر ایک ہندو ایک عیسائی ایک مسلمان اپنے مذہب کی حقیقت نہیں بتا سکتا ۔ کیوں ؟ اصل بات یہ ہے کہ لوگ مذہب کو مانتے ہیں سماعی مذہب سے اتنی بے خبری کیوں ؟ طور پر اور اس میں ان کو ظاہری فائدہ کوئی نظر نہیں آتا اس لئے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ اگر وہ غور کریں اور ان لوگوں کی طرف توجہ کریں جو مذہب کا کچھ فائدہ بتاتے ہیں تو ان کو حقیقت معلوم ہو۔ مگر وہ جن کے پاس جاتے ہیں وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اگلے جہاں میں اس مذہب کے بدلے میں یہ ثواب ملے گا وہ ملے گا اس زندگی میں مذہب کا کوئی نتیجہ نہیں۔ حالانکہ لوگوں کی نظروں میں اگلا زمانہ خود مشتبہ ہے جب اگلے جہاں پر لوگوں کو یقین نہیں معلوم ہوتا تو پھر کیسے اگلے جہاں میں کچھ ملنے کے خیال پر کوئی شخص کسی مذہب کے لئے غور وفکر و محنت اور توجہ سے کام لے سکتا ہے پیس کی مذہب کو ماں باپ سے سنکر ما نا کچھ انعام کا موجب نہیں جب تک انسان خود غور و فکر سے کام نہ ہے ۔ اگر لوگ ماں باپ سے سنے ہوئے پر کفایت نہ کریں بلکہ مسلمان سوچیں کہ وہ کیوں مسلمان ہیں۔ ہندو غور کریں کہ وہ کیوں ہندو ہیں ۔ عیسائی فکر سے کام لیں کہ وہ کیوں عیسائی ہیں تو فتنے بہت کم ہو جائیں ۔ اختلاف مٹ جائیں اور حقیقت ان کے قریب ہو جائے جب لوگ اس طرح غور کریں گے تو ان کا جو جواب ہو گا وہ قابل توجہ ہوگا۔ اب تو لوگ ڈرتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر ایک مسلمان انگریزی پڑھا ہوا آزاد خیال یہ سوال محلہ کی مسجد کے مولوی صاحب کے پاس لے جائے وہ سے کے اسکو کافر اور مرتد قرار گا تو وہ بجائے اس کو معقولیت سے سمجھانے کے پہلے اس کو کافر اور مرتد قرار دیدے گا اور کھانے کو دوڑے گا۔ اس صورت میں بھلا کوئی شخص کسی طرح مذہب کی حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور یہی حال دیگر مذاہب کے لوگوں اور ان کے پنڈتوں اور پادریوں کا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کی آزمائش کیلئے کہ لوگ اپنے اپنے مذہب سے نا واقف ہیں۔ اسی شہر کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے کیوں پابند ہیں تو سو فیصدی اپنے کلیں گے جو سوائے اس کے کچھ نہیں جواب دینگے کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں بتایا ہے یا ہمارے مولوی ، پنڈت یا مہنت یہ کہتے ہیں یا ہماری مذہبی کتابوں میں یوں لکھا ہے اور وہ خیال کرینگے کہ یہ ہمارا جواب درست ہے۔ حالانکہ یہ جواب غلطہ اور نا قابل التفات ہوگا ۔ مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر سب سے پہلے توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر خدا ہے تو اس