انوارالعلوم (جلد 6) — Page 292
انوار العلوم جلد ) و ۲۹۲ هستی باری تعالی مقصد کے پورا کرنے کے لئے ہے اور آئندہ ضرورت کو اور پھر علمی ضرورت کو صرف بالا رادہ ہستی ہی پورا کر سکتی ہے۔ اس جگہ یہ نہیں کہ سکتے کہ انسان کا بچہ چونکہ دیر میں علوم سیکھتا ہے اور حیوان کا بچه جلدی سیکھ لیتا ہے اس لئے انسان کی بچپن کی عمر لمبی ہوتی ہے اور حیوان کی چھوٹی کیونکہ اول تو یہ ارتقاء کے خلاف ہے۔ اگر ارتقاء کا مسئلہ درست ہے اور حیوان ہمیشہ ذہنی ترقی کی طرف قدم مارتا رہا ہے تو چاہئے کہ انسان کا بچہ جلدی سیکھے اور حیوان کا دیر میں لیکن اگر اس وجہ کو فرضاً درست بھی سمجھ لیا جائے تو بھی یہی ماننا پڑے گا کہ دنیا کا پیدا کرنے والا ایک علیم و علم وجود ہے کیونکہ نیچراس امرکا فیصلہ کیا کرسکتی ہے کہ کون علم جلدی سیکھتا ہے اور کون دیر میں ؟ یہ کام تو ایک بالا رادہ اور علیم و حکیم ہستی ہی کر سکتی ہے ۔ اب میں پیدائش عالم کے متعلق قرآنی اصل بیان کرتا ہوں ۔ عالم کے ہوں ۔ دنیا کس طرح پیدا ہوئی ؟ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ یہ بتاتے ہوئے کہ دنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا فرماتا ہے ۔ قُلْ اَبِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ انْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَلَمِينَ ، وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بَرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ، سَوَاءٌ لِلسَّائِلِينَ ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانَ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اثْنِيَا طَوْعاً أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَابِعِينَ ۔ فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْلَهُ فِي كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَا، وَزَيَّنَّا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزُ الْعَلِيمِ۔ ( حم السجدة : ۱۰ تا ۱۳ ) فرماتا ہے ۔ ایک غالب اور عظیم خدا جس کو پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے لگا ہے اور کیا کرنا چاہئے اس نے اس دنیا کو پیدا کیا ۔ اسے منکر و با تم تو اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو وقتوں میں پیدا کیا ہے۔ اور تم اس کے شریک قرار دیتے ہو۔ وہ تو سب جہانوں کو آہستہ آہستہ نشو و نما دیگر کمال تک پہنچانے والا ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بلند کئے ۔ یورپ کی تحقیقات کہتی ہیں کہ شروع میں پہاڑ نہیں تھے بعد میں بنے ۔ اور قرآن مجید بھی یہی کہتا ہے کہ خدا نے پہلے زمین بنائی پھر اس پر پہاڑ بنائے جو کہ زندگی کے لئے ضروری تھے ۔ پھر فرماتا ہے دَبَرَكَ فِيهَا اور ہم نے اس زمین میں برکت دی۔ برکت کے معنی زیادتی ،