انوارالعلوم (جلد 6) — Page 290
انوار العلوم جلد 4 ۲۹۰ بستی باری تعالی نہیں کہ ایک ہی دن میں سب چیزیں پیدا ہو گئیں یا یہ کہ ایک ہی دن میں ایک نئے پیدا ہوگئی سب چیزیں بھی تدریجاً پیدا ہوئیں اور ہر ایک چیز بھی آہستہ آہستہ ہی کامل ہوئی ۔ پس یہ ٹھیک ہے کہ دنیا میں زندگی کی مختلف روئیں چلی ہیں۔ پہلے چھوٹی پھر اس سے بڑی پھر اس سے بڑی۔ مگر یہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل روئیں تھیں ۔ یہ نہیں تھا کہ ایک ہی رو ترقی کرتے کرتے مختلف شکلیں اختیار کر گئی۔ غرض پہلے نہایت ادنی قسم کی مخلوق بنی پھر اس سے اعلی بنی پھر اس سے اعلیٰ مگر یہ ترقی الگ الگ ہوئی اور مستقل طور پر۔ اور یہ غلط ہے کہ ایک ہی ادنی حیوان سے ترقی کرتے کرتے تمام مخلوق بن گئی ۔ بات یہ ہے کہ جب زمین اس قابل تھی کہ چھوٹے چھوٹے جاندار اس میں زندہ رہ سکیں اس وقت اس قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے۔ اس میں جب زیادہ صفائی اس کی فضا میں پیدا ہو گئی تو زیادہ اعلی قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے یہاں تک کہ فضاء بالکل صاف ہو گئی اور اس میں انسان جو سب سے اعلیٰ جاندار تھا پیدا ہوا اور بالکل قرین قیاس ہے کہ انسان کی پیدائش کے بعد جس قسم کے جاندار ان سڑاندوں سے پیدا ہو سکتے تھے جو انسان ہی کی پیدائش کے بعد پیدا ہو سکتی تھیں انسان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے ۔ غرض آدمی بے شک ارتقاء کے اُصول کے ماتحت ہی پیدا ہوا ہے۔ مگر ہر جنس کا ارتقاء مستقل تھا نہ کہ ایک چیز دوسری سے پیدا ہوئی لیکن یہ نہیں کہ بندر سے انسان بنے بلکہ یہ کہ انسان انسان سے ہی بنے اور بندر بندر سے اور - اور کتے کتے سے مگر ہم کتے ہیں خواہ کچھ مان لو اس ارتقاء کا مسئلہ سے دہریت باطل ہو جاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جو لوگ ادنی جانوروں سے ترقی کر کے انسان کی پیدائش مانتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کچھ حیوانات پیدا ہوئے پھر انہوں نے ترقی کی اور اور پیدا ہوئے اور اس ترقی کے ساتھ ساتھ دماغ کی بھی ترقی ہوتی گئی حتی کہ کہ اعلیٰ درجہ کا انسان پیدا ہو گیا ۔ اس پر آکر جسمانی ترقی تو بند ہو گئی لیکن انسانی دماغ کی ترقی جاری ہے ۔ ہم کہتے ہیں میں خدا کے ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر نیچر ہی سب چیزوں کے پیدا کرنے والی ہوئی خدا نہ ہوتا تو جسمانی ترقی بھی جاری رہتی اور انسان سے آگے کچھ وط اور اور بنتا مگر یہ ظاہر ہے کہ جسمانی تغیر بند ہو گیا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں انسانی روح کو مضبوط ترقی یافتہ بنانے کا سلسلہ بنانے کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے کون سی عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ نیچر ایک مقصد قرار دیتی ہے اور اس مقصد کے حصول پر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔ انسان کی پیداش بر ارتقاء جسمانی کا سلسلہ بند ہو جانا اور عقلی اور ذہنی ترقی کا سلسلہ رک نہ جانا بتاتا ہے کہ اس تمام