انوارالعلوم (جلد 6) — Page 287
انوار العلوم جلد 4 ۲۸۷ هستی باری تعالی اس کے متعلق ہم کہتے ہیں۔ اس خیال کا وہ حصہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جتنے جواب منہ اتنی ہے۔ کو کے۔ منہ اتنی باتیں وہ باطل ہے ۔ مگر جس حصہ کو سارے کے سارے مان رہے ہیں وہ کیوں باطل قرار دیا جائے ۔ سارے کے سارے یہ تو کہتے ہیں کہ خدا ہے سی۔ اس کے آگے جو کچھ کہتے ہیں اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ ان کی یہ تشریحیں غلط ہیں اور خدا ہے والا خیال درست ہے ۔ جیسے ایک شخص کہے کہ میں نے دس سوار دیکھے ، دوسرا کے میں نے نہیں دیکھے، تیرا کے میں نے پچیس دیکھے تو کیا یہ کہیں گے کہ کسی نے ایک بھی سوار نہیں دیکھا ۔ اگر انہوں نے فریب اور شرارت نہیں کی اور دھو کا بنا کر نہیں لائے تو یہی کہا جائے گا کہ سوار تو ضرور تھے آگے گننے اور اندازہ لگانے میں ان کو غلطی لگ گئی ۔ اسی طرح دنیا کی مختلف قوموں- مختلف قوموں کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اگر ان کی شرارت نہیں اور وہ دھوکا نہیں دیتے تو بات یہی ہے کہ انہوں نے خدا کے متعلق دیکھا کچھ ضرور ہے مگر بھول جانے کی وجہ سے بعد میں کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ ورنہ یہ غیر مکن ہے کہ ہزاروں روں تو میں سینکڑوں ملکوں میں رہنے والی جن میں سے بعض کو آپس میں ملنے کا بھی کبھی اتفاق نہیں ہوا سب کی سب ایک زبان ہو کر اس امر کا اقرار کرنے لگیں کہ اس مخلوق کا ایک خالقی ہے یہ اتفاق اور اتحاد بلا کسی قوی وجہ کے بالکل ناممکن ہے ۔ ہستی باری کی دوسری دلیل دوسری دلیل جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قرآن کریم -- یہ ہے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُر احد (الاخلاص : (۲) نے دی ہے۔ ع کہو خدا ہے اور ہے بھی ایک۔ اس آیت میں جو یہ دو دعوے کئے گئے ہیں کہ (۱) خدا ہے اور (۲) ایک ہے۔ ان میں سے پہلے کا ثبوت تو یہ دیا کہ اللہ الصمد اور دوسرے کیے دو ثبوت دیئے کہ (1) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ شرک دوقسم کا ہے ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں چاہے اس سے چھوٹے ہوں یا بڑے۔ دوسرے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہو تو مخلوق ہی مگر اسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات - مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے تینوں امور کا ثبوت دیا ہے اول خدا کی ذات کا ۔ دوسرے خدا کے واحد فی الذات ہونے کا تیسرے واحد فی الصفات ہونے کا ۔ چونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق بحث کر رہا ہوں اس لئے میں صرف اس آیت کو لیتا ہوں جس میں ہستی باری پر بحث ہے اور وہ اللهُ الصَّمَدُ کے الفاظ ہیں یعنی خدا اپنی ذات میں کامل ہے صمد کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو اور باقی چیزیں اس کی محتاج الاخلاص ٣ : الاخلاص ۵۰۴