انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 285

انوار العلوم جلد ۔ ۲۸۵ ہستی باری تعالی کہ اس میں جذب کی طاقت ہے اور جب اس ار کا ہم بار بار تجربہ کر لیتے ہیں تو ہمیں اور بھی یقین ہو جاتا ہے اور اگر اس کے اثر کو ہم منتقل کر سکیں تو اس سے ہمارا یقین اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتاً کوئی وجود رکھتی تھی جس کی وجہ سے منتقل بھی ہو گئی ۔ روہ اس طاقت مقناطیسی کو ہم دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ کر یا چھو کر یا سن کر نہیں مانتے ۔ بلکہ اس کے اثر کی وجہ سے مانتے ہیں ۔ اس قسم کی اشیاء بھی لاکھوں کروڑوں ہیں اور کوئی عقلمند ان کا انکار نہیں کرتا ہیں جبکہ دنیوی اور مادی اشیاء میں حواس خمسہ کے سوا اور ذرائع سے بھی انسان چیزوں کے وجود کا پتہ لگایا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جو مادی نہیں اس کے متعلق یہ شرط کیونکر لگائی جاسکتی ہے کہ اسے دکھا دو یا حواس خمسہ کے ذریعہ سے اس کا ثبوت دور ثبوت بیشک ہر دعوی کے لئے ضروری ہے مگر وہ ثبوت دعوی کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ بے تعلق اور بے جوڑ ۔ خدا تعالیٰ کی ذات خدا تعالیٰ کی ذات کیسی ہے؟ اس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الأنعام :۱۰۴) ابصار علم کو بھی کہتے ہیں۔ اس لئے اس کا یہ مطلب ہوا کہ تم خدا کو ان کہ کم ظاہری آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے علم اور فہم سے بھی نہیں دیکھ یا معلوم کر سکتے ۔ مگر جب مگر جب خدا تعالیٰ خود تم پر اپنا اثر ڈالے تو جس طرح لوہے پر مقناطیس کا اثر پڑنے سے مقنا طیس کا پتہ لگ سکتا ہے اسی طرح تم خدا کے اثر سے اس کو معلوم کر سکتے ہو ۔ اس مرحلہ پر پہنچ کر منکرین خدا کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اچھا جس طرح تم چاہو خدا کی ہستی کو ثابت کرو اور جو ثبوت اس کے ہونے کے ہو سکتے ہیں وہ دو۔ اس لئے اب وہ دلائل بیان کئے جاتے ہیں جن سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے ۔ اس کے لئے پہلی دلیل تو ہم قبولیت عامہ کی لیتے ہیں یعنی یہ ہستی باری کی پہلی دلیل کہ خدا کا خیال ہر قوم میں پایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے سے له بڑے منکر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں کہ قبولیت عامہ بہت بڑی دلیل ہے۔ چنانچہ سینسر جو دہریت کا بانی ہوا ہے۔ اگر چہ اس نے اس کا دعوی نہیں کیا لیکن اسی کی کتابوں پر دہریت کی بنیاد رکھی گئی اس نے لکھا ہے کہ جس بات کو ساری دنیا مانتی ہو وہ بالکل غلط نہیں ہو سکتی اس کی ضرور کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتی ہے پیس جبکہ ہم ساری اقوام کو دیکھتے ہیں کہ ان میں خدا کا خیال پایا جاتا ہے جیسا ہے ہیں ہم ساری قوم کو دیکھتےہیں کہ انہیں خدا کا کہ ابھی میں نے بتایا ہے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ خیال کہیں سے نکلا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے ہے)