انوارالعلوم (جلد 6) — Page 283
انوار العلوم جلد 4 ۲۸۳ هستی باری تعالیٰ اسے کہا گیا یہ ورزش نہیں بلکہ عبادت ہے اس نے کہا کس کی عبادت ؟ کہا گیا خدا کی عبادت ۔ اس نے کہا خدا کہاں ہے ؟ اگر ہے تو دکھاؤ حسین تو اپنے آپ کو دکھاتے ہیں۔ اگر خدا سب سے زیادہ حسین ہے تو کیوں چھپا ہوا ہے ؟ اس دوست نے کہا کہ میں نے کاغذ پر اللہ لکھ کر دور سے اسے دکھایا اس نے کہا کچھ نہیں نظر آتا ۔ پھر اسے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ بھی فرماتا ہے کہ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - (ق) (۱۷) میں انسان سے اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں اور اس کا غلہ کو اس کی آنکھوں کے بالکل قریب رکھ دیا اور کہا بتا ؤ اب تمہیں کیا نظر آتا ہے اس نے کہا اب تو کچھ نہیں نظر آتا۔ اس پر اسے بتایا گیا کہ جب خدا اس سے بھی زیادہ قریب ہے تو وہ تمہیں ان آنکھوں سے کس طرح نظر آجائے۔ تو خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو مجمل جواب تو یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ خدا قریب سے قریب اور بعید سے بعید ہے اس لئے ان دونوں وجہ سے نظر نہیں آتا ۔ اور اس کا حقیقی جواب یہ ہے کہ ہر چیز کے دیکھنے ہر چیز کے دیکھنے کا طریق الگ ہے یق الگ ہے اور اس کا تقی جوار اور معلوم کرنے کا طریق الگ ہے اور یہ کہنا کہ دوسری چیزوں کی طرح ہی خدا بھی ہمیں دکھاؤ نہایت ہی بیہودہ اور خلاف عقل سوال ہے۔ ہم نے کب کہا ہے اور ہے نے کب کہ خدا کوئی مادی چیز ہے جسے اور مادی چیزوں کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کسی کہ خدا مادی چیز جسے اور جاسکتا ہے۔۔ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگا میں نبی ہوں مجھے قبول کرو۔ بادشاہ نے کہا کس طرح معلوم ہو کہ تم نبی ہو۔ وزیر نے کہا یہ تو کوئی مشکل بات نہیں۔ ابھی اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ یہ کہ کر ہوکرتم میں نے یہ توکوئی ہے اس نے اس مدعی نبوت کے سامنے ایک تالامر کھ دیا اور کہا اگر تم نبی ہو تو اسے کھول دو۔ اس نے کہا ہیں۔ میں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ لوہار ہونے کا کہ تالہ کھولوں ۔ یہ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہلاتے تو فلاسفر یعنی عقلمند ہیں مگر خدا کے متعلق اس قسم کا مطالبہ کرتے ہیں جس قسم کا وزیر نے مدعی نبوت سے کیا توسم ہاتھا۔ انہیں اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ ہم آٹے کا خدا نہیں مانتے اور نہ تھر کا خدا مانتے ہیں۔ اگر اس قسم کے خداؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو مندروں میں دیکھ لیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وراء الوری ہستی مانتے ہیں ۔ اور دنیا ر چیز دیکھ کر نہیں مان جاتی اور یہ صاف بات ہے کہ ان کی ہر ی چیز دیکھ کرہی ہیں مانی جاتی ۔ بلکہ اور طریقوں سے بھی مانی جاتی ہے۔ مادہ اشیاء میں سے بھی بعض کے وجود کا علم سونگھنے سے بعض کا چکھنے سے بعض کا ٹٹولنے سے بعض کا سننے