انوارالعلوم (جلد 6) — Page 255
انوار العلوم جلد 4 ۲۵۵ آئیز صداقت واقعات سے مجبور ہو کر مولوی صاحب موصوف سے ایک قسم کی غلطی ضرور ہوئی اور جس قدر بات حق ہے انہوں نے نہایت صفائی سے مجھ سے بیان کر دی ہے۔ مولوی صاحب کا بیان ہے کہ مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ یگ صاحب نے کہا کہ آپ خلافت کے لئے تیار ہیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتا اس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم سب بندوبست کر لیں گے (یہ روایت قادیان میں دنوں مشہور تھی اور اس کے ساتھ یہ فقرہ بھی زائد کیا جاتا تھا کہ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے ان دا کہا کہ اگر آپ اس بوجھ کو اُٹھانے کے لئے تیار نہیں تو مجھے کھڑا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ روایت کہاں تک درست ہے چونکہ اس کا ثبوت اس وقت تک میرے پاس کوئی نہیں ۔ اس لئے میں اس کے باور کرنے سے معذور ہوں ۔ خاکسار مرزا محمود احمد ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وقت پر کوئی چالا کی کریں اور چند آدمیوں کو لا کر خلافت کا دعویٰ کریں اس کے لئے ہمیں بھی تیار رہنا چاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ الیسا خطرہ ہے ایک جماعت ہم میں سے بھی تیار رہنی چاہئے۔ بعض لوگ جن سے ذکر کیا تھا انہوں نے اسے پسند کیا لیکن بعض نے مخالفت کی۔ چنانچہ مخالفت کرنے والوں میں سے وہ میاں معراج الدین صاحب کا نام لیتے ہیں انہوں نے بڑا زور دیا ہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ایسی کارروائی ہرگز مناسب نہیں ۔ اسی طرح میر محمد اسحق صاحب کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ گو ان سے ذکر نہ کیا تھا مگر ایک جگہ پر ایک شخص سے میں گفتگو کر رہا تھا کہ انہوں نے کچھ بات سن لی اور کہا کہ آپ لوگ اس خیال کو جانے دیں ہوگا وہی جو خدا چاہتا ہے ۔ آپ لوگوں کو آخر شرمندہ ہونا پڑے گا۔ ان کا بیان ہے کہ آٹھ دس آدمیوں سے زیادہ سے ایسا ذکر نہیں ہوا اور ان میں سے بہت سے ایسے لوگ تھے جو انجمن انصار اللہ کے ممبرنہ تھے لیکن کسی قدر بعض دوستوں کے اس خیال پر کہ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اس پر چھوڑ دو۔ اور زیادہ تر یہ بات معلوم ہونے پر کہ میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خواہ ان لوگوں کے ہاتھ پر بیعت کر لینی پڑے جماعت کو فتنہ سے بچانا چاہئے اس امر کو ترک کر دیا گیا ۔ یہ اصل واقعہ ہے اور گو مولوی محمد اسمعیل صاحب کی اس میں ضرور غلطی ہے۔ لیکن قابل غور یہ امور ہیں کہ اس میں نہ میرا نہ انجمن انصار اللہ کا کوئی دخل تھا۔ یہ کام انہوں نے اپنے خیال میں خود حفاظتی کے طور پر ایک مشہور روایت کی بناء پر کرنا چاہا تھا۔ اٹھ