انوارالعلوم (جلد 6) — Page 253
انوار العلوم جلد 4 قریب لوگ قادیان میں موجود تھے ۔ ۲۵۳ آئینہ صداقت انصاراللہ پر سازش کا جوا الا الله ریق لوگوں کو بہکانے کا یہ اختیار کیا گیا کہ انصاراللہ دوسرا طریق ت مشہور سازه کر کے یہ کام کرایا ہے ۔ حالانکہ انصار اللہ کی کل جماعت سارے ہندوستان میں پونے دوسو سے کم تھی ہیں اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ انصار اللہ کی سازش تھی تو سو ڈیڑھ سو آدمی اپنی رائے کا کیا بوجھ ڈال سکتا تھا۔ اڑھائی ہزار لوگوں کی رائے کے مقابلہ میں سو ڈیڑھ سو آدمی کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے ۔ انصار اللہ نے خلافت کے متعلق کیا سازش کی اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کے داہنے باز و حکیم علیم محمد حسین عرف مرہم علیسی مبلغ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی شہادت کا درج کر دینا کافی ہے جو اس نے اس الزام کے وقت لکھ کر دی ۔ میں پیچھے دل سے اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں انصار اللہ کا ممبر ایک مدت تک تھا اور اب بھی اگر میاں صاحب نے مجھے انصار اللہ میں سے نہ نکالا تو میں ک انصار اد میں سے نہ نکالا تو انصار اللہ کا ممبر اپنے آپ کو سمجھتا ہوں جس قدر کمیٹیاں انصار اللہ کی لاہور میں ہوئیں اور جن میں میں شامل ہوا میں نے کبھی کسی کو حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کے لئے خلیفہ بنانے کی سازش کرتے ہوئے یا اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے نہیں پایا والله عَلَى مَا تَقُولُ شھید اور نہ ہی حضرت صاحبزادہ صاحب بزرگوار کی طرف سے مجھے کبھی کوئی تحریر اس قسم کی آئی کہ جس سے خلیفہ بنانے کی سازش کا کوئی شائبہ پایا گیا ہو اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی کوئی اس قسم کی سازش کی گفت گو میرے ساتھ نہیں ہوئی۔ محمد حسین بقلم خود اس کے علاوہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب سپر نٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری انجمن احمد یہ اشاعت اسلام بھی انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے ۔ اور انہوں نے بھی شہادت لکھ کر دی ہے کہ میں اس انجمن کا مبر تھا۔ اور اس میں اس قسم کی سازش پر کبھی کوئی گفت گو میرے سامنے نہیں ہوئی علاوہ ازیں یہ بات اس الزام کو پورے طور پر رد کر دیتی ہے کہ انجمن انصار اللہ کے ممبروں میں سے ایک معقول تعداد مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ہے اگر یہ انجمن میری خلافت کی سازش کے لئے بنائی گئی تھی تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ عین اس وقت جبکہ میں خلیفہ ہو گیا وہ لوگ ادھر جاملتے۔ اور پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ان سے جا ملے تھے وہ با وجود اس سازش سے آگاہ ہونے کے پھر اسے مخفی رکھتے ۔ انجمن انصار اللہ میں سے کم سے کم دس آدمی