انوارالعلوم (جلد 6) — Page 250
انوار العلوم جلد 4 ۲۵۰ آئینه صداقت بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مهدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔ د یہ اعلان جماعت کے بہت سے سر بر آوردہ لوگوں کی طرف سے فرداً فرداً ہر ایک کے دستخط کے ساتھ ہوا تھا۔ جن میں سے مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔ ، یہ تحریر جو ہر جون ۱۹۰۸ء کے بدر میں بغرض اعلان شائع کی گئی تھی ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں بطور درخواست پیش کی گئی تھی اور پھر حضرت محمدوح کی بیعت خلافت ہو چکنے کے بعد اخبار بدر کے پرچہ مذکورہ بالا میں ہی جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے بحیثیت سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ اس بارہ میں حسب ذیل اعلان شائع کیا تھا ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق ۔۔۔۔۔ جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔۔۔۔۔۔ یہ خطہ بطور بطور اط اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے۔ کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت سے شبہ حکیم الامتہ خلیفہ المسیح والمهدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں " اب کوئی نئی وصیت تو ان کے ہاتھ میں آئی نہ تھی کہ جس کی بناء پر وہ خلافت کو نا جائز سمجھنے گئے تھے ۔ پس حقی میں ہے کہ ان کو خیال تھا کہ خلافت کے لئے جماعت کی نظر کسی اور شخص پر پڑے رہی ہے۔ جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں اور یہ ایک مذہبی امر ہے۔ اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کریں ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر اکٹھے ہو کہ اس امر کے متعلق مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔ یہ کہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہوئی۔ کا عص خلیفہ کا انتخاب رومیوں کے مجھ میں میری خانمحمدعلی خان صاحب جاگیردار میر کوکر نے مجمع ماله بحیثیت حضرت خلیفہ اول کے وصی ہونے کے مجلس میں آپ کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ آپ کی وصیت کے مطابق کسی شخص کو آپ کا جانشین تجویز کریں۔ اس پر لوگوں نے کی کہ وہ کے مطابق کو