انوارالعلوم (جلد 6) — Page 248
انوار العلوم جلد 4 ۲۴۸ آئینه صداقت مہمانوں کی آمد کا نتظار ان ہفتہ کے دن برابر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس بات انتظار کیا گیا کہ کافی آدمی پہنچ جاویں تا پورے طور پر مشورہ ہو سکے۔ ظہر تک قریباً ہزار آدمی سے زیادہ مختلف جماعتوں سے پہنچ گیا اور ایک بڑا مجمع ہو گیا۔ اپنے رشتہ داروں سے مشورہ ظہر کے بعدمیں نے اپنے تمام رشتہ داروں کوجمع کیا اور ان سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا بعض نے رائے دی کہ جن عقائد کو ہم حق سمجھتے ہیں ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئے اور ضرور ہے کہ ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں۔ مگر میں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال رکھنا چاہئے وہ اتفاق ہے خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے ۔ پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلیم کر لیں تو پھر مناسب یہ ہے کہ اول تو عام رائے لی جاوے اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جاوے جو دونوں فراق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر یہ بھی وہ قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہل بیت نے اس بات کو تسلیم کر لیا یہ فیصلہ کرکے میں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے گفتگو میں با ہر آیا تو مولوی محمد علی اور کے سے گفت ا ا ا معماری صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو بلوا لیا اس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب ، خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔ مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی ۔ میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت ۔ زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ لوگ بحث نہ کریں ۔ صرف اس امر پر گفت گو ہو کہ خلیفہ کوان ہو۔ اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ نہیں ابھی کچھ بھی نہ ہو۔ کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔ سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے ۔ میرا جواب وہی کل والا تھا دے۔ میرا جوا اور پھر میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا ؟ اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔ درمیان میں کچھ عقائد پر بھی گفتگو چھڑ گئی مجھے ایسا ہی یاد ہے کہ یہ گفتگو ہفتہ کو ہوئی۔ لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمعہ کو ہی یہ مشورہ بھی ہوا تھا ۔