انوارالعلوم (جلد 6) — Page 242
الوار العلوم جلد 4 ۲۴۲ آئینه صداقت کا سلسلہ نہ چلے اور یہ کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی بعیت بھی انہوں نے بطور خلیفہ کے نہ کی تھی۔ بلکہ بطور ایک پیر اور صوفی کے اور یہ کہ مولوی محمد علی صاحب کو معلوم نہیں کہ کون خلیفہ ہو گا ؟ بلکہ صرف بطور خیر خواہی کے وہ کہتے ہیں کہ آئندہ خلیفہ نہ مقرر ہو اور یہ کہ میاں صاحب (یعنی مصنف رسالہ غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے اور یہ درست نہیں اور تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ کہ اگر کوئی شخص جماعت کا سر بر آوردہ بنایا جاوے تو وہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔ کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح کا جانشین متقی ہونا چاہئے اور غیر احمدیوں کو کافر کہنے والا متقی نہیں اور میں اہل بیت اور حضرت مسیح موعود کے دیگر صحابہ کا خیر خواہ اور ان کا احترام کرنے والا ہوں۔ یہ مضمون جو کچھ ظاہر کرتا ہے۔ اس پر اس جگہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔ ہر ایک نہیں ۔ ہر ایک شخص ادنی قاتل سے اس مضمون کا بین السطور مدعا خود سمجھ سکتا ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب کی مغالطہ دہی کا انکشاف جس وقت یہ ٹرکیٹ میں نے دیکھا۔ میں حیران ہو گیا اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ ابھی دو دن نہ گزرے تھے کہ میرے اس ارادہ پر کہ جماعت میں اعلان کیا جاوے کہ اختلافی مسائل میں اس وقت تک بحث نہ کریں جب تک کہ کوئی سردار ہم میں ایسا نہ ہو جو نگرانی کر سکے اور افراط اور تفریط کو روک سکے۔ مولوی محمد علی صاحب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ چونکہ بیرونجات کے لوگ ان جھگڑوں سے ہی نا واقف ہیں اس لئے ان کو اس اشتہار سے ابتلاء آئے گا اور آج اس ٹریکیٹ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اشتہار بلکہ ایک ٹریکیٹ لکھ کر مولوی محمد علی صاحب پہلے سے لاہور چھپنے کے لئے بھیج چکے تھے اور نہ صرف اسے خود شائع کرانے کا ارادہ تھا بلکہ اس کے اوپر تمام احمدیوں کو ہدایت لکھی گئی تھی کہ وہ اس ٹریکٹ کو دوسروں تک پہنچا دیں۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا تھی اور میں حیران تھا کہ میں مولوی محمد علی صاحب کی نسبت کیا سمجھوں؟ جو شخص دو دن پہلے مجھے اس امر کے اعلان سے کہ اختلافی مسائل پر آپس میں اس وقت تک بحث نہ کرو کہ کوئی نگران تم میں موجود ہو اس لئے روکتا تھا کہ اس سے لوگوں کو ابتلاء آجائے گا اور وہ خیال کریں گے کہ ہمارا آپس میں اختلاف ہے وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے خود ایک ٹریکٹ اختلافی مسائل پر لکھ کر چھینے اور شائع کئے جانے کے لئے لاہور بھیج چکا تھا ۔ کیا یہ فعل تقویٰ کا فعل تھا ؟ کیا اس جواب میں صداقت کا کوئی پہلو تھا ؟ کیا یہ صریح مغالطہ دہی نہ تھی ؟ کیا یہ ایک پالیسی نہ تھی ؟ کیا مولوی محمد علی صاحب کے اس فعل میں خدا تعالیٰ کے خوف کو پس پشت نہ ڈال دیا گیا تھا ؟ ہاں کیا ان کا یہ طریق عمل اسی