انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 226

انوار العلوم جلد 4 ۲۲۶ آئینه صداقت تاکہ اس کے الزامات کی تحقیق کی جاسکے کیونکہ مدعی جب تک ثبوت نہ دے اس کا جواب کیا دیا جا سکتا ہے ؟ قانون شریعت کو بھی توڑا گیا ہے کیونکہ لکھنے والا اس شخص کی مخالفت کرتا اور اسے مشرک اور بد اخلاق قرار دیتا ہے جس کے ہاتھ پر وہ بیعت کر چکا ہے اور پھر ایسے نا پاک افتراء بغیر ثبوت و دلیل کے شائع کرتا ہے جن کا بغیر ثبوت کے منہ پر لانا بھی شریعت حرام قرار دیتی ہے ۔ دوسرا امر یہ کہ یہ لوگ اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ کر چکے تھے کہ خواہ کچھ ہو جاوے اپنے مدعا کے حصول کے لئے جماعت کے تفرقہ کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور جماعت کے توڑنے کے لئے حضرت خلیفہ امین کی زندگی کے زمانہ میں ہی تدابیر شروع کر دی تھیں ۔ ٹریکٹیوں کے لکھنے والے کئی ایک تھے کہ ہم یہ نہیں کہے کہ یہ ٹریک خود مولوی محمد ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ٹرکیٹ خود مولوی محمد علی صاح نے لکھا مگر بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا لکھنے والا ان کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے ضرور تھا اور ایک نہ تھا کئی تھے بلکہ کوئی جماعت تھی کیونکہ ایک سلسلہ ٹریٹ کی اشاعت اور وہ بھی کثرت سے ایک شخص کا کام نہیں ۔ اس کے انتظام اس کے خرچ اور اس کے ڈھینچ کے لئے مدد گاروں کی ضرورت ہے اور بغیر وردگاروں کے یہ کام ہو نہیں سکتا ۔ پس ضرور ہے کہ ان کے ہم خیالوں کی ایک خفیہ سوسائٹی بنائی گئی تھی جس نے یہ کام کیا ۔ ٹریکٹیوں کا اثر اور ان کا جواب جب یہ ٹریکیٹ شائع ہوئے تو ان کا اثر ایک بمب سے زیادہ تھا وہ جماعت جو مسیح موعود کی قائم کردہ تھی اس نے اس ٹریکیٹ کی اشاعت پر اپنی ذمہ داری کو پھر بڑے زور سے محسوس کیا اور چاہا کہ اس کا جواب دیا جاوے - جماعت جماعت کی ناراضگی اور حضرت خلیفۃ المسیح کے غضب سے ڈر کر پیغام صلح میں جو تائیدی ریمارکس شائع ہوئے تھے اس کی تردید میں ایک مختصر سانوٹ متعلقین پیغام صلح نے آخر میں شائع کیا، لیکن اس کے الفاظ ایسے پیچدار تھے کہ ان میں ان ٹریکٹوں کے مضمون کی اگر تردید نکلتی تھی تو تائید کا پہلو بھی ساتھ ہی تھا مگر اصل جواب ایک اور جماعت کے لئے مقدر تھا اور وہ انصار اللہ کی جماعت تھی چونکہ راقم ٹریکٹ نے ان ٹریکٹوں میں انجمن انصار اللہ کے خلاف خاص طور پر زہر اگلا تھا اور اخبار پیغام صلح میں بھی انہی کو مخاطب کیا گیا تھا اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح نے خاص طور پر اس ٹریکٹ کا جواب اس جماعت کے سپرد فرمایا جو آپ کے ارشاد کے ماتحت دوٹرکیٹوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔ پہلے ٹریکیٹ میں اظہار الحق نمبر اول کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام خلافت احمد یہ رکھا گیا ۔ دوسرے میں