انوارالعلوم (جلد 6) — Page 224
انوار العلوم جلد 4 ۲۲۴ آئینہ صداقت نہ ملے ۔ وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنایا تھا اور جو کہ بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا۔ وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا کرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے سب اہل الرائے اصحاب اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ اور حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو کھلا آپ کے مرتبہ کو کھلا ، آپ کی وصیت کو بھلا دیا ۔ اور پیر پرستی جس کی بنیاد کو اکھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر کیا تھا۔ قائم ہو رہی ہے اور عین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے ۔ بیکسی شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں ؟ یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی۔ کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی ؟ اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے۔ اللہ رحم کرے ۔ دل سخت بیگلی کی حالت میں ہے۔ حالات آمده از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چور کر دیگا ۔ اللہ رحم کرے۔ تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے ۔ نیک ظنی نیک خلفی کی تعلیم دیتے دیتے بدلنی کی کوئی انتہاء نظر نہیں آتی۔ ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی ۔ اللہ رحم کرے ۔ یا الٹی ہم گنہگار ہیں تو اپنے فضل و کرم سے ہی ہمیں بچا سکتا ہے ۔ اپنی خاص رحمت میں لے لے۔ اور ہم کو ان ابتلاؤں سے بچالے آئین ۔ اور کیا لکھوں بیس حد ہو رہی ہے وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص تائید الہی ہو۔ تاکہ یہ اس کا سلسلہ اس صدمہ سے بیچ جاوے ۔ آمین ۔ سب برادران کی خدمت میں السلام علیکم اور دعا کی درخواست ۔ خاکسار سید محمد حسین ( تاریخ احمدیت جلدم ۲۸) دوسرا خط مرز الیعقوب بیگ صاحب ان کی صدر انجمن کے جنرل سیکرٹری کا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کا مضمون شیخ رحمت اللہ صاحب اور سید محمد حسین شاہ صاحب کے علم سے اور ان کی پسندیدگی کے بعد بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب اور شاہ صاحب کی طرف سے بھی مضمون واحد ہے :۔ حضرت اخی المکرم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ سر دست تو قادیان کی مشکلات کا سخت فکر ہے ۔ خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے