انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 212

انوار العلوم جلد 4 ۲۱۲ آئینہ صداقت جان کر اصل معاملہ کو پوشیدہ رکھ کر یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ انہوں نے اس سفر ولایت میں تبلیغ کی خاص ضرورت محسوس کی ہے۔ اور اس کے لئے وہ اپنی چلتی ہوئی پر کیٹس چھوڑ کر محض اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے ولایت جاتے ہیں ۔ اصل واقعات کا تو بہت کم لوگوں کو علم تھا۔ اس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ چاروں طرف سے خواجہ صاح خواجہ صاحب کی اس قربانی پر صدائے تحسین و آفرین بلند ہونی شروع ہو گئی اور اپنی زندگی میں صلا نے و آفرین ہی ایک مذہبی شہید کی صورت میں وہ دیکھے جانے لگے۔ مگر صرف زبانی روایات پر ہی اکتفا نہ کر کے خواجہ صاحب نے اخبار زمیندار میں ایک اعلان کرایا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ مجھے کوئی سیٹھ یا انجین یا کوئی غیر احمدی رئیس ولایت بھیج رہا ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں تو اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اپنا کام چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔ اس اعلان کے الفاظ میں یہ احتیاط کر لی گئی تھی کہ رئیس کے لفظ کے ساتھ غیر احمدی کا لفظ بڑھا دیا گیا تھا ۔ اور اب بظاہر اعتراض سے بچنے کی گنجائش رکھ لی گئی تھی۔ کیونکہ ان کو بھیجنے والا نہ سیٹھ تھا نہ انجمن نہ غیر احمدی رئیں ۔ بلکہ ایک احمدی رئیس نے انکو بھجوایا تھا۔ مگر خواجہ صاحب کا یہ منشاء نہ تھا کہ لوگوں کا ذہن ایک احمدی رئیس کی طرف پھرے ۔ بلکہ یہ تھا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ وہ کسی مالدار شخص سے فیس لے کر کسی دنیاوی کام پر ولایت نہیں جا رہے۔ بلکہ اپنی پر کیٹس کو چھوڑ کر خدا کا نام پھیلانے کے لئے اور شرک کو مٹانے کے لئے اپنے خرچ پر ولایت جا رہے ہیں ۔ خواجہ ترسم کہ نے رسی بکعبہ اے اعرابی این راه که تو میروی بترکستان است کہا جاتا ہے کہ بھیجنے والے صاحب یہ نہیں بچاہتے تھے کہ کسی کو معلوم ہو کہ وہ خواجہ صاحب کو بھیج رہے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ جھوٹ طور پر یہ بھی مشہور کیا جاوے کہ اجہ صاحب اپنی پرید پریکٹس کو چھوڑ کر اپنے خرچ پر صرف تبلیغ کے لئے ولایت جا رہے ہیں ۔ اگر خواجہ صاحب بغیر کسی ایسے اعلان کے ولایت چلے جاتے تو کیا لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ خواجہ صاحب فلاں شخص کے بھیجے ہوئے جا رہے ہیں۔ غیر احمدی سب کے سب اور احمدی اکثر اس واقعہ سے ناواقف تھے اور جو واقف تھے وہ اس اعلان سے دھوکا کھا نہیں سکتے تھے ۔ پھر اس اعلان کے سوائے جھوٹے فخر کے اور کیا مد نظر تھا - يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (ال عمران : ۱۸۹) غرض خواجہ صاحب ولایت روانہ ہو گئے اور پیچھے ان کے دوستوں نے بڑے زور سے اس امر کی اشاعت شروع کی کہ خواجہ صاحب اپنا کام تباہ کر کے صرف تبلیغ دین کے لئے ولایت چلے