انوارالعلوم (جلد 6) — Page 207
انوار العلوم جلد 4 ۲۰۷ آئینه صداقت تھا۔ بلکہ یہ انجمن صرف تبلیغ کا کام کرتی تھی اور ان میں سے بعض نے یعنے ان کے واعظ محمد حسین عرف مرہم عیسی اور ماسٹر فقیر اللہ سپرنٹنڈنٹ دفتر سیکرٹری اشاعت اسلام لاہور نے یہ شہادت دی بھی ہے اس انجمن کے قریباً پونے دو سو ممبر ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں تبلیغ کے متعلق جو ستی ہو گئی تھی اس کے ذریعہ سے وہ دور ہو گئی اور سلسلہ حقہ کی خالص تبلیغ کا جوش نہ صرف اس کے ممبران میں ہی بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی پیدا ہو گیا اور ایسے لوگ جو سست ہو گئے تھے چست ہو گئے اور جو پہلے سے ہی چست تھے وہ تو چیست ہی تھے۔ خواجہ صاحب نے بھی اس خیال سے کہ دیکھوں اس انجمن میں کیا بھید ہے ۔ اس میں داخل ہونا چاہا، لیکن سات دن کا استخارہ غالباً ان کے راستہ میں روک ہوا یا کوئی اور باعث ہوا جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے۔ طریق تبلیغ کے متعلق الی اشرہ جو کہانی اناردانہ کا قیامت یہ سلسلہ حمدیہ کے لئے تھا اس لئے میں اس جگہ ضمناً یہ بھی ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح خلافت کے مسئلہ کے متعلق میں نے اس وقت تک آگے آنے کی جرأت نہیں کی جب تک کہ مجھے رڈیا میں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا ۔ اسی طرح تبلیغ کے طریق کے متعلق بھی بغیر استخارہ اور دعا اور الہی اشارہ کے میں نے کچھ نہیں کیا ۔ چنانچہ خواجہ صاحب کے طرز تبلیغ کو دیکھ کر جب جماعت میں اعتراضات ہونے شروع ہوئے تو میں نے اس وقت تک کوئی طریقی اختیار نہیں کیا ۔ جب تک کہ دعا و استخارہ نہیں کر لیا ۔ اس استخارہ کے بعد مجھے رویا میں خواجہ صاحب کے متعلق دکھایا گیا کہ وہ خشک روٹی کو کیک سمجھے ہوئے ہیں اور اسی کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس پر میں نے ان کے اس رویہ کی تردید شروع کی ۔ ورنہ پہلے میں بالکل خاموش تھا۔ طور پر جماعت خلیفہ اول کی پردہ پوشی جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ اس وقت عام طور پر معاملات کو سمجھ گئی تھی اور احمدیوں نے سمجھ لیا تھا کہ خواجہ صاحب ہمیں کدھر کو لئے جا رہے ہیں اور اکثر حصہ جماعت کا اس بات پر تیار ہو گیا تھا کہ وہ اندرونی یا بیرونی دشمنوں کی کوششوں کا جو ان کو مرکز احمدیت سے ہٹانے کے لئے کی جا رہی ہیں مقابلہ کرہے۔ مگر چونکہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے خلافت کے متعلق یہ رویہ اختیار کر لیا تھا کہ بظاہر اس مسئلہ کی تائید کی جائے ۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں اکثر حاضر ہو کہ ان سے اظہار عقیدت کی جاوے اس لئے جماعت کو ان کے حالات سے پوری طرح آگا ہی نہ حاصل ہو سکی ۔ ورنہ جس قدر آج کل ان کا اللہ ہے وہ بھی نہ رہتا۔ حضرت خلیفہ الشیخ کو ان لوگوں نے یقین دلایا تھا کہ یہ لوگ خلافت کے قائل ہیں