انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 204

انوار العلوم جلد 4 ۲۰۴ امینه صداقت اطاعت بوجہ خلافت نہیں کی جاتی ۔ بلکہ بوجہ پریزیڈنٹ انجمن ہونے کے اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ دوسری تدبیر خوداپنے ہی ہاتھوں سے اکارت چلی گئی۔ جونی خواجہ صاحب کو کچھ شہرت صاحب شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ اپنے وجود کو آگے لانے لگے اور لوگوں کی توجہ بھی ان کی طرف ہی پھر گئی اور مولوی صاحب خود ہی پیچھے ہٹ گئے ۔ اور ان کی رائے کا وہ اثر نہ رہا جو پہلے تھا۔ حب ہی گئے۔ او حضرت خلیفہ مسیح کا ۱۹۱۰ ء میں بیمار ہونا اوانہ کے آخری مہینوں میں حضرت خلیفہ المسیح گھوڑے سے گر گئے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی۔ حتی کہ آپ نے مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو اس وقت آپ کے معالج تھے دریافت کیا کہ میں موت سے نہیں گھبرا تا آپ بے دھڑک طبی طور پر تبا دیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو میں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانا اپنے لئے مضر سمجھتے تھے ۔ آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے ۔ اور اگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتا دیں گے مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دو پہر کے وقت ڈاکٹر مرز الیعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے کہ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں ۔ میرے نانا صاحب جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب ، خواجہ صاحب، مولوی صدر الدین صاحب اور ایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔ خواجہ صاحب نے ذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے ۔ ہم لوگ یہاں ٹھر تو سکتے نہیں لاہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے پس اس وقت دو پیر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جاوے کہ فتنہ نہ ہو۔ اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے۔ کم سے کم میں اپنی ذات کی نسبت تو کہ سکتا ہوں کہ تجھے خلافت کی خواہش نہیں ہے ۔ اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں ۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں ۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے۔ لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہونے دیں۔ جب تک کہ ہم لاہور سے نہ آجا دیں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو۔ ہمارا انتظار ضرور کر لیا جائے ۔ میر صاحب نے تو انکو